Book Name:Qayamat Ke Din Ke Gawah
آئے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اگرچہ تمہارے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔(امام اعظم کی وصیتین،ص ۲۵۔)* امام اعظم نے فرمایا:جب تم لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤکروگے تو وہ تمہارے ماں باپ کی طرح ہو جائیں گے اگرچہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہ ہو۔(امام اعظم کی وصیتیں،ص ۲۶۔)*اولیاء ُاللہ اپنی بُرائیاں کرنے والوں بلکہ جان کے در پے رہنے والوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا کرتے ہیں۔ (غیبت کی تباہ کاریاں،ص۳۴۲ ماخوذاً) *حسنِ سلوک کرنے سے اللہپاک کی رِضا حاصل ہوتی ہے۔ *حسن سلوک لوگوں کی خوشی کا سبب ہے۔*حسنِ سلوک کرنے سے فرشتوں کو مَسَرّت ہو تی ہے۔*حسنِ سلوک کرنے سے مسلمانوں کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے۔*حسنِ سلوک کرنے سے شیطان کو اس سے رَنج پہنچتا ہے۔*حسنِ سلوک کرنے سے عمربڑھتی ہے۔*حسنِ سلوک کرنے سے رِزْق میں برکت ہو تی ہے۔(تَنبیہُ الغافِلین، ص ۷۳ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
*قیامت کی رُسوائی سے نجات کی دُعا
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع کے شیڈول کےمطابِق” قیامت کی رُسوائی سے نجات کی دعا“ یاد کروائی جائےگی۔وہ دُعایہ ہے:
اَللّٰهُمَّ لَا تُخْزِنِي یَوْمَ الْبَاْسِ وَ لَا تُخْزِنِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
ترجمہ: اے اللہ! مجھے جنگ کے دن رُس نہ کرنا اور مجھے قیامت کے دن رُسوا نہ کرنا۔ (فیضان دعا، ص 317)