Qayamat Ke Din Ke Gawah

Book Name:Qayamat Ke Din Ke Gawah

(6): چھٹا گواہ: ہمارے اَعْضَا

روزِ قیامت کے گواہوں میں چھٹا گواہ ہمارے اَعْضَا ہوں گے، اللہ پاک فرماتا ہے:

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴) (پارہ:18،سورۂ نور:24)

ترجَمہ کنزُ العرفان: جس دن ان کے خلاف اُن کی زبانیں  اور اُن کے ہاتھ اور اُن کے پاؤں اُن کے اعمال کی گواہی دیں گے۔

حضرت  عَلَّامہ محمود آلوسی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  اس آیتِ کریمہ کی وضاحت میں لکھتے ہیں: روزِ قیامت اللہ پاک ہمارے اَعْضَا کو بولنے کی طاقت عطا فرمائے گا، پھر ہر عُضْو بندے کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ اِن اَعْضَا سے کیا کام لیتا رہا۔([1])

آہ! صَدْ کروڑ آہ! ذرا تَصَوُّر تو کیجئے! یہ کیسا ہوش اُڑا دینے والا منظر ہو گا کہ روزِ قیامت ہمارے اَعْضَا ہمارے ہی خِلاف گواہی دے رہے ہوں گے، پاؤں بتائیں گے: مولیٰ! یہ فُلاں دِن، فُلاں وقت فُلاں گُنَاہ کے مقام پر گیا تھا، ہاتھ کہیں گے: مولیٰ! اس نے ہمیں حرام کمانے، حرام کھانے اور حرام معاملات میں استعمال کیا، آنکھیں بولیں گی: مولیٰ! یہ ہمارے ذریعے بدنگاہی کرتا تھا، فلمیں ڈرامے دیکھتا تھا، کان گواہی دیں گے: مولیٰ! یہ ہمارے ذریعے گانے باجے سنتا تھا، گندی باتیں سن کر لذّت لیا کرتا تھا،  زبان پُکارے گی: مولیٰ! یہ میرے ذریعے غیبت کرتا تھا، جھوٹ بولتا تھا، چغلی کھاتا تھا، لعن طَعن کیا کرتا تھا، آہ! اس وقت جب ہمارے جسم کے اعضا  ہی ہمارے خِلاف گواہ ہوں گے، اس وقت ہم خُود کو کیسے بچا پائیں گے؟ اپنی صفائی میں ہمارے پاس کیا عُذر ہو گا؟


 

 



[1]...تفسیرروح المعانی، پارہ:18، سورۂ نور، تحت الآیۃ:24، جزء:18، جلد:9، صفحہ:442۔