Qayamat Ke Din Ke Gawah

Book Name:Qayamat Ke Din Ke Gawah

آہ! اے عاشقانِ رسول! یہ زمین، یہ دِن اور رات، ہمارے اعمال لکھنے والے فرشتے، یہاں تک کہ ہمارے اَعْضَا، ہماری آنکھیں، زبان،  کان،  ہاتھ، پاؤں سب ہم پر گواہ ہوں گے تو بتائیے! نجات کی کیا راہ ہو گی؟ کیا کوئی عذر ہمارے پاس باقی رہے گا؟ نہیں رہے گا مگر افسوس! ہم نہیں سمجھتے، ہم نہیں ڈرتے، ہم آخرت کو بُھولتے ہیں، دُنیا کی عارضی زِندگی، یہاں کی وقتی عیش و عشرت پر پُھولتے ہیں، آہ! نجات سخت دُشْوار ہے، ہم پھر بھی گُنَاہوں سے باز نہیں آتے۔

بڑا جاہِل کون...؟

ایک مرتبہ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے حضرت منصور بن عمّار رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  سے کہا: اے منصور! ایک سُوال ہے، میں آپ کو ایک سال کی مہلت دیتا ہوں، اس کا جواب تلاش کیجئے! وہ سوال یہ ہے کہ سب سے عقل مند کون ہے؟ اور سب سے بڑا جاہِل کون ہے؟منصور بن عمّار رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  سُوال سُن کر جواب کی تلاش کے لئے محل سے نکلے، ابھی کھلی فِضا میں آئے ہی تھے کہ فوراً واپس پلٹ گئے، خلیفہ عبد الملک بن مروان نے جب آپ کو دیکھا تو بولا: اے منصور رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ! کیا جواب مِل گیا؟ فرمایا: ہاں! سب سے بڑا عقل مند وہ ہے جو نیکیاں کر کے بھی خوف زدہ رہتا ہے اور سب سے بڑا جاہِل وہ ہے جو گناہ بھی کرتا ہے، پھر اللہ پاک کے قہر سے ڈرتا بھی نہیں۔

یہ سُن کر عبد الملک بن مروان رونے لگا، پھر کہا: اے منصور رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ! خُدا کی قسم! آپ نے ٹھیک کہا۔ مجھے دِل کی شِفَا یعنی قرآنِ کریم کی کوئی آیت سُنائیے! مَنْصُور بن عمّار رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  نے پارہ:3، سورۂ آلِ عمران کی یہ آیتِ کریمہ پڑھی: