Qayamat Ke Din Ke Gawah

Book Name:Qayamat Ke Din Ke Gawah

دن یہ عمل کیا اوراُ س نے فلان دن یہ عمل کیا،یہی اس کی خبریں  ہیں۔([1])

راستے کو  ذِکْرُ اللہ کا گواہ بناتے

ایک بزرگ ہوئے ہیں: حضرت اَبُو الْمَلِیْح رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ۔ آپ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ کہیں جاتے ہوئے راستے میں ذِکْرُ اللہ کرتے رہتے، اگر کبھی ذِکْر کرنا بھول جاتے تو واپس آجاتے اور دوبارہ اُسی راستے سے ذِکْرُ اللہ کرتے ہوئے گزرتے اور فرمایا کرتے: میں چاہتا ہوں کہ میں زمین کے جس حِصّے سے گزروں وہ قیامت کے دِن میرے ذِکْرُ اللہ کی گواہی دے۔ ([2])

سُبْحٰنَ اللہ ! ہمارے بزرگوں کے انداز کیسے پیارے تھے! یہ نیکیوں کے کتنے حریص تھے...! آہ! ایک ہم ہیں کہ غفلت کا شِکار رہتے ہیں، افسوس! ایسے نادان بھی ہیں جو دورانِ سَفَر گُنَاہوں میں مَصْرُوف رہتے ہیں، کار میں، ویگن، بس، ٹرین اور جہاز وغیرہ میں فلمیں، ڈرامے دیکھتے اور گانے سنتے ہوئے ٹائِم پاس کرتے ہیں، گلی کُوچوں سے گزرتے ہوئے موبائل پر گانے سنتے یا گنگناتے ہوئے چلتے ہیں۔ ایسوں کو غور کرنا چاہئے کہ وہ زمین کو کس بات پر اپنا گواہ بنا رہے ہیں۔ پیارے نبی، مکی مدنی، مُحَمَّدِ عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تَحَفَّظُوْا مِنَ الْاَرْضِ یعنی زمین سے بچ کر رہا کرو...!فَاِنَّہَا اُمُّکُم بے شک یہ تمہاری اَصْل ہے وَاِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَحَدٍعَامِلٍعَلَیْہَاخَیْراً وَّ شَرّاًاِلَّا ہِیَ مُخْبِرَةٌ جو بھی بندہ اس زمین پر ذَرَّہ برابر نیکی کرے گا یا بُرائی کرے گا،( روزِ قیامت) یہ زمین اُس کے بارے


 

 



[1]...ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ، صفحہ:577، حدیث:2429۔

[2]...تَنْبِيْهُ الْمُغْتَرَّيْن، صفحہ:88۔