Book Name:Qayamat Ke Din Ke Gawah
بارگاہِ اِلٰہی میں پیشی کا خوف
حضرت شیخ سَعْدی شِیْرازی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مسجد الحرام میں کچھ لوگ کعبۃ اللہ شریف کے قریب عبادت میں مصروف تھے۔ اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوار ِ کعبہ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہا ہے اور اس کے لبوں پر یہ دعا جاری ہے ، اے اللہ ! اگر میرے اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تو کل قیامت میں مجھے اندھا اٹھانا ۔
یہ عجیب وغریب دعا سن کر لوگوں کو بڑی حیرانی ہوئی ، انہوں نے دعا مانگنے والے سے پوچھا : اے شیخ ! ہم تو قیامت میں عافیت کے طلب گار ہیں اور آپ اندھا اٹھائے جانے کی دعا فرما رہے ہیں ، اس میں کیا راز ہے ؟ اُس شخص نے روتے ہوئے جواب دیا ، میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اعمال اللہ پاک کی بارگاہ کے لائق نہیں تو میں قیامت میں اس لئے اندھا اٹھایا جانا پسند کرتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔ وہ سب لوگ اس عارفانہ جواب کو سن کر بے حد متأثر ہوئے لیکن اپنے مخاطب کو پہچانتے نہ تھے ، اس لئے پوچھا : اے شیخ ! آپ کون ہیں ؟انہوں نے جواب دیا :میں عبدالقادر جیلانی ہوں ۔([1])
بےحساب جنّت میں داخِلہ دِلانے والے اَعْمَال
اے عاشقانِ رسول! اللہ پاک ہمیں حسابِ آخرت کا خوف نصیب فرمائے! یقیناً ہم حساب دینے کے لائق نہیں ہیں، آہ! اگر ہم سے حِسَاب لے لیا گیا تو سوائے رُسوائی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لئے دُعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ پاک ہمیں بِلا حِسَاب اپنی رحمت سے،