Book Name:Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein
میں ہے: شَعْبَانُ الْمُعَظَّم نے اللہ پاک کے حُضُور عرض کیا: یا رَبّ! تُو نے مجھے 2 عظمت والے مہینوں (رجب اور رمضان) کے درمیان رکھا ہے، میرے لئے کیا ہے؟ فرمایا: میں نے تجھ میں تلاوتِ قرآن رکھ دی ہے۔([1]) *روایت میں ہے :صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم کا معمول تھا جیسے ہی شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی آمد ہوتی پوری توجہ کے ساتھ تِلاوتِ قرآن میں مصروف ہو جایا کرتے تھے۔([2]) چونکہ ماہِ شعبان شَہْرُ الْقُرْآن (یعنی تلاوتِ قرآن کا مہینا)بھی ہے۔
کاش! ہمیں بھی توفیق ملے، ہم بھی اس مبارک مہینے میں کثرت سے تلاوت کرنے والے بن جائیں۔ اٰمین بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی تیسری اہم عبادت نفل روزہ ہے۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم میں روزے رکھنا پسند فرماتے تھے۔ مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں: اللہ پاک کے آخری نبی، مکی مدنی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو میں نے شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے نہ دیکھا، آپ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم سِوائے چند دِن کے پورے ہی ماہ کے روزے رکھا کرتے تھے۔([3]) ایک مرتبہ آپ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی خدمت میں سُوال ہوا: رمضان کے بعد کون سے روزے اَفْضَل ہیں؟ فرمایا: رمضان کی تعظیم کے لئے شعبان کے روزے رکھنا۔([4])