Book Name:Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein
ابھی دُعا میں مشغول ہی تھے کہ کعبہ شریف کے ایک کونے سے آواز آئی: تم نے اچھی طرح ہماری معرفت (یعنی پہچان) حاصِل کی اور خلوص کے ساتھ عبادت کی، ہم نے تم کو بخشا اور قیامت تک جو تمہارے مذہب پر ہو گا (یعنی تمہاری تقلید کرے گا) اُس کو بھی بخش دیا۔ ([1])
اے عاشقانِ اِمامِ اعظم! الحمد للہ! ہم کس قدر خوش نصیب ہیں کہ حضرت اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا دامن ہمارے ہاتھوں میں ہے،اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! اس دامنِ کرم کے صدقے قبر و حشر میں، روزِ قیامت پُل صراط پر ضرور کرم ہو گا اور اللہ پاک نے چاہا تو مصطفےٰ جانِ رحمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شفاعت سے اِمامِ اعظم کے پیچھے پیچھے جنّت میں داخِل ہو جائیں گے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کعبہ شریف کے کونے سے جو آواز سُنی، اسے الہام کہتے ہیں۔ الہام وہ سچّا عِلْم ہوتا ہے جو اللہ پاک اپنے بندوں کے دِل میں غیب سے ڈالتا ہے اور بعض دفعہ یُوں ہوتا ہے کہ فرشتہ وَلِیُّ اللہ سے کلام کرتا ہے۔([2]) قرآنِ کریم میں ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) (پارہ:24، حٰمٓ السَّجْدَۃ:30)
ترجمہ کنزُ العِرْفان:بیشک جنہوں نے کہا: ہمارا ربّ اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اُترتے ہیں(اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنّت پر خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا؛ وہ نیک مسلمان جو ایمان لائیں، اس پر اِستقامت اِختیار