Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein

Book Name:Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein

اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی پاکیزہ عادات

اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے خاص شاگِرد امام ابو یوسُف رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:(1):اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ حرام کاموں سے ہمیشہ بچتے (2):عِلْمِ دین کے عِلاوہ بات کرنے سے ڈرتے (3): بہت زیادہ مجاہدہ (یعنی نیک کاموں میں بہت کوشش) فرماتے (4):دُنیا داروں کی اُن کے مُنہ پر تعریف نہ کرتے (5):اَکْثَر خاموش رہتے (6):دِینی مسائِل میں غور و فِکْر کرتے رہتے (7): بہت سادہ اور نرم مزاج تھے (8):آپ سے کوئی سُوال کرتا تو قرآن و حدیث سے اس کا جواب تلاش کرتے تھے (9):طبیعت مبارک میں لالچ نہیں تھا (10): اور کسی کا بھی ذِکْر ہوتا، بھلائی کے عِلاوہ کچھ نہیں فرماتے تھے۔([1])

غیبت سے دُور رہتے تھے

اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا ایک پاکیزہ وَصْف یہ بھی تھا کہ آپ کبھی کسی کی غیبت نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ نے اپنے دُشمن کی بھی کبھی غیبت نہیں کی۔ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن مبارک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے حضرت سفیان ثوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے کہا: امام ابوحنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ غیبت سے کتنا بچتے ہیں...!! میں نے سُنا ہے، آپ دُشمن کی بھی غیبت نہیں کرتے۔ حضرت سُفیان ثوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کہا: خُدا کی قسم! اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت زیادہ عقل مند تھے، پِھر آپ کیسے گوار کر سکتے تھے کہ اپنی قیمتی نیکیاں غیبت کے ذریعے ضائع کر دیں۔([2])

سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! کتنا پیارا کردار ہے...!! ذرا تَصوُّر باندھیئے! اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کبھی اپنے دُشمن کی بھی غیبت نہیں کی، اللہُ اکبر! کیسا عظیم تقویٰ ہے۔ پِھر غور


 

 



[1]...الخیرات الحسان،الفصل الرابع و العشرون،صفحہ:82 ملتقطًا۔

[2]...تبیض الصحیفہ بمناقب ابی حنیفہ،ذکر نبذ من اخبارہ و مناقبہ،صفحہ:110۔