Book Name:Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ایک بار کسی حاسد نے اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو سخت برا بھلا کہا، گندی گالیاں دیں اور گمراہ بلکہ مَعَاذَ اللہ! زندیق تک کہہ دیا۔ اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے جواب میں ارشاد فرمایا: اللہ پاک آپ کو معاف فرمائے،اللہ پاک جانتا ہے کہ آپ جو کچھ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں میں ایسا نہیں ہوں۔ اتنا فرمانے کے بعد آپ کا دل بھرآیا اورآنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمانے لگے:میں اللہ پاک سے امید کرتا ہوں کہ وہ مجھےمعافی عطا فرمائے گا۔ آہ! مجھے عذاب کا خوف رلاتا ہے۔ عذاب کا تصورآتے ہی گریہ بڑھ گیا اور روتے روتے بے ہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔ جب ہوش آیا تو دعا مانگی:یااللہ پاک! جس نے میری برائی بیان کی اس کو معاف فرما دے۔([1])
پیارےاسلامی بھائیو!آپ نے سناکہ اِمامِ اعظم کا حسن سلوک کہ بُرا بھلا کہنے اور گندی گالیاں دینے والے کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ اے کاش !ہم بھی اپنے امام کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور جو ہمیں بُرا بھلا کہے اسے معاف کردیا کریں۔
علّامہ اِبْنِ حجر ہَیْتَمِیشافعی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا پوری رات عبادت کرنا اور تہجد پڑھنا تواتر سے ثابت ہے اور یہی وجہ ہے کہ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ کو اَلْوَتَد یعنی میخ (کیل) کہا جاتا تھا۔ آپ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ 30 سال تک ایک رکعت