Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein

Book Name:Imam e Azam Ki Mubarak Aadatein

10 ہزار میں نے مُعاف کئے

پیارے اسلامی بھائیو! اِمامِ اعظم ابوحنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت سخی تھے، آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ *جتنا مال اپنے اَہْل و عیال پر خرچ کرتے، اتنا ہی صدقہ کرتے*جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اسی قیمت کا کپڑا علما کو بھی خرید کر دیتے *جب آپ کے سامنے کھانا رکھا جاتا تو جتنا خُود کھاتے، اتنا ہی کھانا کسی غریب کو بھی کھلایا کرتے تھے۔([1])

ایک مرتبہ آپ سے کسی نے 10 ہزار (دِرْہَم یا دِینار یعنی سونے یا چاندی کے سکّے) قرض لئے، شاید بیچارہ غریب تھا، واپس لوٹا نہ سکا، وعدے کی مُدَّت گزر گئی۔ ایک دِن یُوں ہوا کہ اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کہیں تشریف لے جا رہے تھے، سامنے سے وہی شخص آتا ہوا دکھائی دیا۔ جیسے ہی اس نے آپ کو دیکھا تو ڈر کر راستہ بدل لیا۔ اب جس گلی میں وہ داخِل ہوا تھا، وہ دوسری طرف سے بند تھی۔ اِمامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بھی پیچھے تشریف لے گئے اور پوچھا: مجھے دیکھ کر ڈر کیوں گئے؟ عرض کیا: میں نے آپ کا قرض لوٹانا ہے، وعدے کا وقت گزر چکا ہے، مجھے ڈر تھا کہ آپ قرض مانگیں گے، میں ابھی دے نہیں سکتا، اس لئے میں ڈرا اور راستہ بدل لیا۔ یہ سُن کر سخی امام، امام ابوحنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: بھلا 10 ہزار بھی کوئی ایسی چیز ہے کہ اس کیلئےکسی مسلمان کا دِل پریشان کیا جائے، جاؤ! میں نے تمہیں 10 ہزار معاف کئے۔([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہ!اللہ پاک ہمیں ایسی توفیق بخشے! اگر ہم دل میں خیر خواہی پیدا کریں تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!دین و دنیا کی بہت ساری بھلائیوں کے حقدار ہو جائیں گے۔


 

 



[1]...تاریخِ بغداد،جلد:13،صفحہ:356 ملتقطًا۔

[2]...الخیرات الحسان،الفصل السابع عشر،صفحہ:57 ماخوذًا۔