Book Name:Bekhaufi Ka Wabal
تُو بے حساب بخش کہ ہیں بے شُمار جرم دیتا ہوں واسِطہ تجھے شاہِ حِجاز کا([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے ہاں گُنَاہوں کی تقسیم کاری بھی کی جاتی ہے؛ ایک گُنَاہِ صغیرہ ہوتا ہے یعنی چھوٹا گُنَاہ، دوسرا گُنَاہ کبیرہ ہوتا ہے یعنی بڑا گُنَاہ۔ یہ تقسیم شریعت نے کی ہے اور یہ تقسیم شرعی سزاؤں اور توبہ کے اُصُولوں کے لحاظ سے ہے مگر ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ یہ ذہن بنے ہوئے ہیں کہ چھوٹا گُنَاہ کر بھی لیں تو کوئی حرج نہیں ہوتا، مَعَاذَ اللہ ! یعنی لوگ چھوٹے گُنَاہ کو گویا گُنَاہ سمجھ ہی نہیں رہے ہوتے۔ یاد رکھئے! چنگاری چھوٹی ہو یا بڑی ہو، آگ دونوں ہی لگا دیتی ہیں، اِس لئے اِس چکّر میں نہ پڑیں کہ یہ چھوٹا گُنَاہ ہے، وہ بڑا گُنَاہ ہے، بس جو بھی گُنَاہ ہے، وہ اللہ پاک کی نافرمانی ہے اور اللہ پاک کی ہر نافرمانی اُس کی ناراضی کا سبب ہے۔ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محمد شریف مُحدِّث کوٹلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: اللہ پاک نے 3چیزوں کو 3چیزوں میں پوشیدہ رکھا ہے، (1):اپنی رِضا کو اپنی اِطاعت میں اور (2):اپنی ناراضگی کو اپنی نافرمانی میں اور (3):اپنے اولیا کواپنے بَندوں میں۔([2]) یہ قول لکھنے کے بعد فَقیہِ اعظم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: لہٰذا ہر طاعَت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہئے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہوجائے اور ہر بُرائی سے بچنا چاہئے کیونکہ معلوم نہیں کس بُرائی پر وہ ناراض ہوجائے۔ خواہ وہ بُرائی کیسی ہی چھوٹی ہو۔ مثلاً (بِلا اجازت) کسی کے تِنکے کا خِلال کرنا بظاہِرایک معمولی سی بات ہے مگر ممِکن ہے کہ اِس بُرائی میں ہی اللہ پاک کی