Bekhaufi Ka Wabal

Book Name:Bekhaufi Ka Wabal

کھڑے ہوتے تو خوفِ خُدا کے سبب اِس قدر رَوْتے کہ ایک میل (تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر) کے فاصلے سے آپ کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ ([1])

  اللہ  پاک کے نبی حضرت یحیٰ  علیہم السَّلَام  بہت خوفِ خُدا والے تھے، جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اس قدر رَوتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی ساتھ رونے لگتے۔ حضرت یحیٰ  علیہم السَّلَام  خوفِ خُدا سے مسلسل روتے رہا کرتے، یہاں تک کہ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب آپ کے رُخْسار مبارک پر زخم ہو گئے تھے۔ ([2])

  اللہ  اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے!   اللہ  پاک کے مَعْصُوم فرشتے، مَعْصُوم اَنبیائے کرام  علیہم السَّلَام  جن سے گُنَاہ ہوتے ہی نہیں ہیں، جب وہ بھی خوفِ خُدا سے یُوں تَھر تَھر کانپتے ہیں تو ہم کس بنیاد پر بےخوف ہو سکتے ہیں؟  ہم کیسے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ   اللہ  پاک ہمیں بخش ہی دے گا؟ ہماری پکڑ نہیں ہو گی۔ اِس لئے اچھا وہی ہے، کامیاب اور سعادت مند وہی ہے جو   اللہ  پاک کی خُفْیہ تدبیر سے، اُس کی پکڑ اور عذاب سے ڈرتا رہتا ہے۔   اللہ  پاک ہمیں بےخوفی کے وبال سے بچائے، خوفِ خُدا میں رونا، تھرتھرانا اور اِس ذریعے گُنَاہوں سے بچتے رہنا نصیب کرے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نیک اعمال موبائِل ایپلی کیشن

پیارے اسلامی بھائیو! نیک بننے اور نیک اعمال میں اضافے کے لئے دعوتِ اسلامی کے


 

 



[1]           احیاء العلوم، بیان  احوال انبیاء والملائکۃ           الخ، جلد:4، صفحہ:224۔

[2]            احیاء العلوم، بیان  احوال انبیاء والملائکۃ           الخ، جلد:4، صفحہ:223 خلاصۃً۔