Bekhaufi Ka Wabal

Book Name:Bekhaufi Ka Wabal

رکھتا ہوں، نفل نمازیں بھی پڑھتا ہوں، لہٰذا بچ جاؤں گا، نہ...!! ایسا ذہن ہر گز نہیں بنانا،   اللہ  پاک بےنیاز ہے، وہ چاہے تو کسی چھوٹے سے گُنَاہ پر پکڑ فرما لے، لہٰذا ہر وقت ڈرتے ہی رہنا چاہئے، اُس کی رحمت سے اُمِّید لگائے، اُس کی پکڑ کے خوف سے ڈر ڈر کر ہی زندگی گزارنی ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:

فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹)  (پارہ:9، الاعراف:99)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو   اللہ  کی خُفیہ تدبیر سے صِرْف تباہ ہونے والے لوگ ہی بےخوف ہوتے ہیں۔

خوفِ خُدا ملنا بڑی سعادت ہے

تفسیر رُوْحُ المعانی میں ہے: جب اِبْلِیْس لَعِیْن (لعنتی شیطان) مَرْدُود ہوا یعنی حضرت آدم  علیہم السَّلَام  کو سجدہ نہ کرنے کے جُرْم میں اُسے بارگاہِ اِلٰہی سے دُھتکار دیا گیا تو یہ دیکھ کر حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السَّلَام رونے لگے،   اللہ  پاک نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے رُلایا؟ عرض کیا: یارَبّ! ہم تیری خُفیہ تدبیر سے بےخوف نہیں۔ ارشاد ہوا: ایسے ہی رَہو، میری خُفْیہ تدبیر سے کبھی بےخوف مَت ہونا۔ ([1])

تِرے خوف سے، تیرے ڈَرْ سے ہمیشہ    میں تَھرتَھر رہوں کانپتا یااِلٰہی!

مِرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دَم        تِرے     خَوف     سے     یاخُدا     یااِلٰہی!([2])

حضرت ابراہیم و حضرت یحیٰ علیہما السَّلَام کاخوفِ خُدا

اِحْیَاءُ الْعُلُوْم میں ہے:   اللہ  پاک کے خلیل، حضرت ابراہیم  علیہم السَّلَام  جب نماز کے لئے


 

 



[1]           تفسیر رُوح المعانی، پارہ:19، سورۂ نمل، زیرِ آیت:10، جز:19، صفحہ:217۔

[2]            وسائلِ بخشش، صفحہ:105 ملتقطًا۔