Book Name:Bekhaufi Ka Wabal
ناراضگی چُھپی ہوئی ہو۔ تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہئے۔([1])
کتے کو پانی پلانے والی بخشی گئی
حدیثِ پاک میں ہے: ایک عورت کو صِرْف اِس لئے بخش دیا گیا کہ اُس نے ایک پیاسے کتّے کو پانی پلایا تھا۔([2]) ایک اور حدیث پاک میں ہے، سرکارِ دوعالم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ایک شخص نے راستے میں سے ایک دَرَخْت کو اِس لئے ہٹا دیا تاکہ لوگوں کو اِس سے تکلیف نہ پہنچے۔ اللہ پاک نے راضی ہوکر اُس کی مغفِرت فرما دی۔([3]) غرض؛ اللہ پاک کی رَحمت کے واقِعات جَمْع کرنے جائیں تو اتنے ہیں کہ ہم جَمْع ہی نہ کرسکیں۔ سیدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں نا:
مُژدہ باد اے عاصِیو! شافِع شہِ اَبرار ہے تَہْنِیَت اے مجرِ مو! ذاتِ خُدا غفّار ہے([4])
وضاحت:اے گنہگارو...!! خوشخبری ہے کہ شہِ ابرار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شفاعت فرمانے والے ہیں۔ اے مجرمو...!! مبارَک ہو...!! اللہ پاک بہت بخشنے والا ہے۔
اِسی طرح اللہ پاک کے عذاب اور اُس کی پکڑ کی بات کی جائے تو اِس تعلق سے بھی بےشمار واقعات کتابوں میں لکھے ہیں۔ تابعی بزرگ، حضرتِ عَمْرو بن شُرَحْبِیْل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ایک ایسا شخص اِنْتِقال کرگیا جس کو لوگ مُتَّقی سمجھتے تھے۔ جب اُسے دَفْن