Book Name:Bekhaufi Ka Wabal
حالت پر ہیں، ہمیشہ اُسی حالت پر رہیں گے، بس اُن کا یہ اطمینان، اُن کی یہ بےفِکْری، اللہ پاک کی خُفْیَہ تَدْبیر سے بےخوفی تھی جس کے سبب یہ ہلاک ہو گئے۔
الٰہی! میں تیری عطا مانگتا ہوں کرم مغفرت کی دُعا مانگتا ہوں
بچانا بُرے خاتمے سے بچانا میں اِیمان پر خاتِمہ مانگتا ہوں([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک بےنیاز ہے
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بات ہمیشہ اپنے ذِہن میں رکھئے کہ اللہ پاک بہت بے نیاز ہے۔ وہ چاہے تو کسی مسلمان کو بظاہِر چھوٹے سے نیک عمل پر ہی اپنے فضل سے بخش دے اور اگر چاہے تو بڑی بڑی نیکیوں کے باوُجُود کسی کو محض ایک چھوٹے سے گُناہ پر اپنے عدل سے پکڑلے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ (پارہ:3، البقرۃ:284)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان : تَو جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔
میاں محمد بخش رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کتنی پیاری بات کہی، لکھتے ہیں:
عَدَلْ کَرَیْں تَاں تَھْر تَھْر کَنْبَنْ اُچْیَاں شَانَاں وَالے
فَضَلْ کَرَیْں تَاں بَخْشَے جَاوَنْ مَیں جَیْہے مُنہ کَالے
وضاحت: یعنی اللہ پاک بہت بےنیاز ہے، وہ عدل فرمائے تو اُونچی اُونچی شانوں والے بھی تَھرتھرا اُٹھیں اور فضل فرمائے تو بڑے بڑے گنہگار بھی محض رحمت سے بخشے جاتے ہیں۔