Bekhaufi Ka Wabal

Book Name:Bekhaufi Ka Wabal

رہے گا۔ لہٰذا اَے بنی اسرائیل! اپنے اِس بُرے خیال سے باز آؤ...!! جہنّم سے بچنے اور جنّت کا حقدار بننے کے لئے کلمہ پڑھو! ہمارے پیارے مَحْبُوب  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا دامنِ رحمت تھامو! اور نیک کاموں میں مَصْرُوف ہو جاؤ...!!

عاصیو! تھام لو دامن اُن کا                 وہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والے

اَبْرِ رحمت کے سَلامی رہنا                پھلتے       ہیں          پودے          لچکنے           والے([1])

وضاحت:اے گناہ گارو! دامنِ مصطفےٰ  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تھام لو...!! وہ محبوب  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دُھتکارنے اور محروم فرمانے والے نہیں ہیں۔ اُن کے حُضُور سَرِ تسلیم جھکائے ہی رکھو کہ جو پودا جھکتا ہے، اس پر پھل لگتے ہیں۔   

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بےخوفی تمام بُرائیوں کی جڑ ہے

پیارے اسلامی بھائیو! یہ بنی اسرائیل کی باطنی بیماری تھی، جس کا نام ہے: اَلْاَمْنُ مِنْ مَکْرِ   اللہ  یعنی   اللہ  پاک کی خُفْیہ تدبیر سے بےخوف ہو جانا، یہ ذہن بنا لینا کہ میں تو بخشا بخشایا ہوں،   اللہ  پاک میری پکڑ نہیں فرمائے گا، بس مَرتے ہی جنّت میں پہنچ جاؤں گا۔ یہ اِنتہائی خطرناک مرض ہے۔ یہی مرض بنی اسرائیل کو بھی لے ڈوبا، غَور فرمائیے! اِس مرض کے سبب بنی اسرائیل کس قدر مَحْروم رہے *یہ کلمہ پڑھ لیتے تو جنّت کے حقدار ٹھہرتے *پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے صحابی ہونے کا شرف پاتے، *قیامت تک آنے والوں کے اِمام بنتے *  اللہ  پاک کے ہاں بڑا مقام حاصِل کرلیتے مگر یہ *کفر  پر اَڑے رہے *گُنَاہوں پر ڈٹے رہے *اُن کے اندر سے حق قبول کرنے کی


 

 



[1]           حدائقِ بخشش، صفحہ:163و 164۔