Bekhaufi Ka Wabal

Book Name:Bekhaufi Ka Wabal

کر دیا گیا تو اُس کی قَبْر میں عذاب کے فِرِشتے آ پہنچے اور کہنے لگے، ہم تجھ کو   اللہ  پاک کے عذاب کے 100 کوڑے ماریں گے۔ اُ س نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ مجھے کیوں مارو گے؟میں تَو پرہیز گار آدمی تھا۔ تَو فِرشتے بولے: اچّھا چلو 50ہی مارتے ہیں مگر وہ برابر بَحث کرتا رہا حتّی کہ فِرِشتے ایک پر آ گئے اور اُنہوں نے ایک کوڑا مار ہی دیا۔ جس سے تمام قَبْر میں آگ بھڑک اُٹھی اور وہ شخص جل کر راکھ ہو گیا۔ پھر اُسے دُوبارہ پہلی حالت میں لایا گیا تو اُس نے دَرد سے تڑپتے اور روتے ہوئے فریاد کی: آخِر مجھے یہ کوڑا کیوں مارا گیا؟تو فِرشتوں نے کہا: ایک روزتُو نے بے وُضُو نَماز پڑ ھ لی تھی۔ اور ایک روز ایک مظلوم تیرے پاس فریاد لے کر آیا مگرتُونے فریاد رَسی نہ کی۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے؟  اللہ  پاک ناراض ہُوا تو اُس نے نیک اور پرہیز گار شخص کی بھی گرِفت فرمائی اور وہ عذابِ قَبرمیں گھِر گیا۔   اللہ  پاک ہمارے حالِ زار پر رَحم فرمائے۔ اور ہماری بے حساب مغفِرت فرمائے۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جُرم     دیتا   ہوں    واسطہ     تجھے     شاہِ    حجاز    کا([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماپنے میں بے احتیاطی کے سبب عِتاب

 حضرت حارِث مُحَاسِبِی  رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ایک غَلّہ ماپنے والے (Grain Scaler) نے اِس کام کو چھوڑ دیا اور   اللہ  پاک کی عِبادت میں مَشْغُوْل ہو گیا۔ جب وہ مر گیا تَو اُس کے


 

 



[1]            مصنف ابن شیبۃ، کتاب الزہد، کلام علقمۃ، جلد:8، صفحہ:215، حدیث:13۔

[2]            ذوقِ نعت، صفحہ:18۔