Bekhaufi Ka Wabal

Book Name:Bekhaufi Ka Wabal

کَتروں، چوروں یا رِشوت خَورَوں کے ہاتھوں میں یہ مال چلا جائے۔ اور پھر مَعاذَ  اللہ ! آخِرت کا عذابِ شدید بھی برداشت کرنا پڑ جائے۔

کر لے تَوْبَہ رَبّ کی رَحمت ہے بڑی      قبر    میں     ورنہ    سزا     ہو     گی    کڑی([1])

تنکے کا بوجھ

 حضرت وَہْب بن مُنَبِّہ  رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کے ایک نوجوان نے ہر قِسْم کے گُناہوں سے تَوبہ کی۔ پھر 70سال تک مُسَلسَل عِبادت کرتا رہا۔ دِن کو روزہ رکھتا، رات کو جاگتا۔ اُس کے تَقْویٰ کا یہ عالَم تھاکہ نہ کسی سایہ کے نِیچے آرام کرتا اور نہ ہی کوئی عُمدہ غِذا کھاتا۔ جب اُس کا اِنتِقال ہوگیا تَو اُس کے بَعض دوستوں نے اُسے خواب میں دیکھ کر پُوچھا: مَافَعَلَ   اللہ  بِکَ؟ یعنی   اللہ  پاک نے تیرے سا تھ کیا مُعَامَلہ کیا؟ اُس نے بتایا کہ   اللہ  پاک نے میرا حِساب لیا، پھر سب گُناہوں کو بَخش دیا مگر ایک تِنکا، جِسے میں نے اُس کے مالِک کی مرضی کے بِغیر لے لیا تھا اور اُس سے دانتوں میں خِلال کیا تھا وہ تِنکا اُس کے مالِک سے مُعاف کروانا رہ گیا تھا۔ افسوس !اُسی سَبَب سے ابھی تک مجھے جنّت سے روکا ہوا ہے۔([2])  

بےخوف مت ہو جائیے!

پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! یہ کیسے عبرتناک واقعات ہیں، اِن میں ہمارے لئے دَرْس ہے، ہم یہ ذہن ہر گز نہیں بنا سکتے کہ *میں چونکہ فُلاں بن فُلاں ہوں، لہٰذا بخشا جاؤں گا *میں چونکہ بہت دینی علم رکھتا ہوں، لہٰذا ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں *میں چونکہ تہجد بھی پڑھتا ہوں، لہٰذا جنّت اپنی ہی ہے *میں چونکہ نفل روزے بھی


 

 



[1]            سائلِ بخشش، صفحہ:712۔

[2]             تنبیہ المغترین، و من اخلاقہم کثرۃ الخوف من اللہ تعالیٰ ان یعذبہم           الخ، صفحہ:48۔