Book Name:Bekhaufi Ka Wabal
عذاب دے، چاہے تو بخشش فرما دے۔ یہ اُس رَبِّ کریم کی رضا پر ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے مالِکِ کریم کی رحمت سے اُمّید بھی لگائیں، ساتھ ہی ساتھ اس کی پکڑ سے ہر وقت ڈرتے بھی رہا کریں، یہ کبھی ذہن نہ بنائیں کہ میں تو بخشا بخشایا ہوں۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ(۴۹) وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ(۵۰)
(پارہ:14، الحجر:49-50)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: میرے بندوں کو خبر دو کہ بیشک میں ہی بخشنے والا، مہربان ہوں اور بیشک میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔
حضرت وَہْب بِنْ مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں 70 زاہِد (یعنی دُنیا سے بےرغبتی رکھنے والے نیک لوگ تھے)، اُس زمانے میں اُن جیسا نیک اور کوئی نہیں تھا، اللہ پاک نے اُس زمانے کے نبی علیہم السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ یہ 70 زاہِد دُنیا سے کافِر ہو کر نکلیں گے۔ اُن نبی علیہم السَّلَام نے حیرانی سےپوچھا: یا اللہ پاک! اس کی کیا وجہ ہے؟ (یہ تو بہت نیک لوگ ہیں، دُنیا سے بےرغبتی رکھتے ہیں، نیکیوں پر نیکیاں کرتے ہیں، پِھر ان کا انجام ایسا کیوں ہو گا؟) اللہ پاک نے فرمایا: اِس لئے کہ یہ اپنے انجام سے بےفِکْر ہو گئے ہیں۔([1])
اللہ اکبر! اے عاشقانِ رسول ! غور فرمائیے! *نیک لوگ ہیں *دُنیا سے بےرغبتی رکھنے والے ہیں *اُن کے زمانے میں اُن کے جیسا عِبادت گزار اور کوئی نہیں تھا مگر افسوس! اُن کا انجام بھیانک ہوا...!! کیوں؟ اِس لئے کہ یہ بےفِکْر ہو گئے تھے، یہ اپنے اَنجام کے مُعاملے میں مطمئن ہو گئے تھے، اُن کے دِلوں میں یہ احساس آ گیا تھا کہ ہم جس