Book Name:Ramadan Sudharne Ka Mahina Hai
رَمضَان تشریف لا چکا ہے۔
رحمت سے محروم رہنے والا بدبخت ہے
حضرت عُبَادہ بن صامِت رَضِیَ اللہُ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک مرتبہ ماہِ رَمضَانُ الْمُبارَک کی آمد آمد تھی، اللہ پاک کے آخری نبی، مکی مَدَنی صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تمہارے پاس ماہِ رَمضَان آ گیا *یہ برکتوں والا مہینا ہے *اس ماہِ مُبارَک میں اللہ پاک کی رحمتیں تمہیں ڈھانپ لیتی ہیں *اس ماہِ مُبارَک میں گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں *اس مُقَدَّس مہینے میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں *اس بابرکت مہینے میں اللہ پاک تمہارا (نیکیوں کی طرف رغبت اور)ذوق و شوق دیکھتا ہےاور اللہ پاک فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرماتا ہے *پس اس مقدس مہینے میں اپنی ذات سے نیکیاں، بھلائیاں اللہ پاک کو دِکھاؤ! *بے شک بد بخت ہے وہ شخص جو اس مہینے میں بھی رحمتِ اِلٰہی سے محروم رہ جائے۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
2 اَہَم باتیں
پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک کے 2 جملے بہت اَہَم ہیں: (1):ارشاد فرمایا: ینظرُ اللہُ اِلیٰ تَنَافُسِکُمْ یعنی اس مہینے میں اللہ پاک تمہارا (نیکیوں کی طرف رغبت اور)ذوق و شوق دیکھتا ہے۔(2):فَاَرُوا اللہَ مِنْ اَنْفُسِکُمْ خَیْرًا پس اپنی ذات سے نیکیاں، بھلائیاں اللہ پاک کو دِکھاؤ!
یعنی اس مُبارَک مہینے میں خصوصیت کے ساتھ ہمارے ذوق و شوق کو پرکھا جاتا ہے، دیکھا جاتا ہے کہ*ماہِ رَمضَان تو عطا کر دیا، اب کون ہے جو اس میں سدھر جاتا ہے*ماہِ