Book Name:Ramadan Sudharne Ka Mahina Hai
شَبِ قَدْر حاصل کرلی۔([1])
لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ الْحَلِیْمُ الْـکَرِیْمُ ،سُبحٰنَ اللہ ِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم
(خُدائے حَلیم وکریم کے سِوا کوئی عِبادت کے لائِق نہیں، اللہ پاک ہے جو ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا پَروردگار ہے۔)
ہفتہ واراجتماع کے حلقوں کا شیڈول(بیرون ملک)،27فروری 2025ء
(1): سنتیں اورآداب سیکھنا:5منٹ، (2):دعایاد کرنا :5 منٹ، (3):جائزہ:5منٹ، کُل دورانیہ15منٹ
اگرکوئی شخص شَہرکے اندر گھرمیں نَمازپڑھے تووہاں کی مسجِدکی اذا ن اس کیلئے کافی ہے مگر اذان کہہ لینا مُسْتَحَب ہے۔ (رَدُّالْمُحتار،۲/ ۶۲،۷۸)*وَقت شُروع ہونے کے بعد اذان کہئے اگر وَقت سے پہلے کہہ دی یا وقت سے پہلے شُروع کی اوردورانِ اذان وقت آگیا دونوں صورَتوں میں اذان دوبارہ کہئے۔ (الہدایۃ،۱/ ۴۵)*خواتین اپنی نَماز ادا پڑھتی ہوں یا قضا اس میں ان کیلئے اذان واِقامت کہنا مکروہ ہے۔ (دُرِّمُختار ،۲/ ۷۲) * سمجھدار بچّہ بھی اذان دے سکتا ہے۔(دُرِّمُختار،۲/ ۷۵)*بے وُضُوکی اذان صحیح ہے مگر بے وُضُو کا اذان کہنا مکروہ ہے۔ (قانون شریعت ،ص۱۵۸)*اذان میں اُنگلیاں کان میں رکھنا مسنون و مستحب ہے مگر ہِلانا اور گھمانا حرکتِ فضول ہے۔( فتاویٰ رضویہ،۵/ ۳۷۳) * فَجْر کی اذان میں حَیَّ عَلَی الْفَلَاح کے بعد اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہنا مُسْتَحَب ہے۔ (دُرِّمُختار،۲/ ۶۷) اگر نہ کہا جب بھی اذان ہوجا ئے گی۔ (قانونِ شریعت ص ۱۵۷)