Book Name:Ramadan Sudharne Ka Mahina Hai
اس آیتِ کریمہ میں روزے کی جو اعلیٰ تَرِیْن حکمت اور بہت ہی بڑا فائدہ جو بتایا گیا، وہ یہ ہے:
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳) (پارہ:2، البقرہ:183)
ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
یعنی اے مسلمانو! تم پر روزے فرض کئے جاتے ہیں، تم اس پر کاربند رہو (یعنی پابندی سے روزے رکھتے رہو) تاکہ تمہیں تقویٰ اور پرہیزگاری ملے۔([1])
پتا چلا کہ ماہِ رَمضَان وہ مُبارَک مہینا ہے، جس میں روزے رکھے جاتے ہیں اور ان روزوں کی برکت سے ہمیں تقویٰ نصیب ہوتا ہے۔
تقویٰ بہت بڑی دولت ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم، شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک صحابی رَضِیَ اللہُ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہُ جِمَاعُ کُلِّ خَیْرٍ تم پر تقویٰ لازِم ہے کہ بے شک تقویٰ تمام بھلائیوں کا مجموعہ (Combination) ہے۔([2])
حُجَّۃُ الاسلام امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اے عزیز! تجھے جاننا چاہئے کہ تقویٰ ایک نایاب خزانہ ہے، اگر تم اس خزانے کو حاصِل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو تم بہت بڑی کامیابی حاصِل کر لو گے، یُوں سمجھو کہ دُنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں