Book Name:Quran Ki Taseer
آپ رَضِیَ اللہُ عنہا پنے اِسلام قبول کرنے کا واقعہ(Incident) بیان کرتےہوئے فرماتے ہیں: غزوۂ بَدْر میں جو غیر مُسلم قید ہو گئے تھے، میں (اَہْلِ مکہ کی طرف سے) ان قیدیوں کے بارے میں بات چِیت کرنے کیلئے مدینۂ مُنَوَّرہ آیا۔ جب یہاں پہنچا تو یہ مغرب کا وقت تھا، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مغرب کی نَماز پڑھا رہے تھے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی آواز مبارَک مسجد سے باہر بھی سنائی دے رہی تھی،آپ نے سورۂ وَالطُّوْرْ کی تِلاوت فرمائی، میں بھی قرآنِ کریم کی تِلاوت سُننے لگا (زبان محبوبِ خُدا کی تھی، کلام رَبِّ رحمٰن کا تھا، بس پِھر کیا تھا؛ ایسی پیاری آواز، اتنا پُرتاثِیر کلام میرے دِل میں اُترنا شروع ہوا)۔ اس دوران آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے یہ آیات پڑھیں:
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ(۷) مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ(۸) (پارہ:27، وَالطُّوْرْ:7-8)
ترجَمہ کنزُ العرفان:بیشک تیرے ربّ کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔ اسے کوئی ٹالنے والا نہیں۔
ان آیات کو سُن کر تو میرا دِل ایسے ہو گیا جیسے اَبھی پَھٹ جائے گا۔ مجھے یُوں لگ رہا تھا کہ میں یہاں سے قَدم بھی نہیں اُٹھا سکوں گا، اس سے پہلے ہی مجھ پر عَذاب بَرس جائے گا۔ بس میں نے اللہ پاک کے عَذاب سے ڈر کر اِسی وقت اِیمان قبول کر لیا۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو!قرآنِ کریم اللہ پاک کا کلام ہے، اس میں عجیب تاثِیر ہے*یہ پیارا کلام دِلوں کو نرم کرتا ہے*بھٹکے ہوؤں کو راہِ ہدایت دیتا ہے*اس میں اگلے پچھلوں کی خبریں ہیں*یہ اللہ پاک کی مضبوط رَسّی ہے*یہ حِکمت والا کلام ہے*حدیثِ پاک