Quran Ki Taseer

Book Name:Quran Ki Taseer

زِندگی بھر کے لئے زبردست نصیحت

حضرت زید بن اَسْلَم  رَضِیَ اللہُ عنہ  سے روایت ہے: ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہوا، پیارے آقا، سَیِّدُ الْانبیا  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے ایک صحابی  رَضِیَ اللہُ عنہ  کو فرمایا: اس (نئے آنے والے شخص) کو قرآنِ کریم سکھاؤ...! اُس صحابی  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے اِس شخص کو سورۂ زِلْزال سکھانا شروع کی، جب انہوں نے سورۂ زِلْزال کی ساتویں آیت سکھائی تو اُس شخص نے کہا: بَس! مجھے کافی ہے۔ اُن صحابی  رَضِیَ اللہُ عنہ  نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! اس نے ابھی 7 آیات ہی سیکھی ہیں اور کہتا ہے: مجھے کافِی ہے۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: اسے چھوڑ دو! اسے فَقَاہَت (یعنی دِین کی سمجھ ) مِل گئی ہے۔([1])

(2-3):قرآن کتاب رحمت اور کتابِ ہدایت ہے

سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے قرآن کی شان...! پیارے اسلامی بھائیو! سورۂ لقمان کی آیات میں قرآنِ کریم کی (2):دوسری خصوصیت یہ بیان ہوئی کہ قرآنِ کریم کتابِ رحمت ہے۔ ناوِل ڈائجسٹ وغیرہ بےفائدہ بلکہ گُنَاہوں بھری کتابیں پڑھنے سے نیکیاں نہیں ملتیں، آدمی پر رحمت نہیں اُترتی مگر قرآنِ کریم وہ عظیم کتاب ہے، جس کے ایک ایک حرف پر 10،10 نیکیاں ملتی ہیں، جب بندہ قرآن پڑھتا ہے تو اللہ پاک کی رحمتیں چھما چھم برستی ہیں اور (3)اس پاکیزہ کلام کی تیسری خصوصیت یہ بیان ہوئی کہقرآنِ کریم کتابِ ہدایت ہے۔ یہ تجربےکی بات ہے، جو بندہ*ناوِل *ڈائجسٹ*اور جھوٹی کہانیاں


 

 



[1]...تفسیر دُرِّ منثور، پارہ:30، سورۂ زلزال، جلد:8، صفحہ:596۔