Quran Ki Taseer

Book Name:Quran Ki Taseer

پڑھنے کا عادِی ہو، وہ نفسیاتی مریض ہو جاتا ہے*وہ خیالی دُنیا میں رہنے لگتا ہے*معاشرے (Society)میں اپنا مثبت کردار ادا نہیں کرپاتا*اس کی طبیعت میں چِڑ چِڑا پن آجاتا ہے اور اس کے مقابَلے میں وہ بندہ جو قرآنِ کریم کی تِلاوت کا عادِی ہو، چاہے بغیر سمجھے ہی قرآنِ کریم کی تِلاوت کرتا ہو*اس کا دِل نَرم پڑ جاتا ہے*دِل میں نیکی کے جَذبات پیدا ہو جاتے ہیں*اس کے اَخلاق اور کِردار (Character)میں مُثبت تبدیلی (Positive Change)آجاتی ہے*اس کو ظاہِر اور باطِن کی پاکیزگی نصیب ہو جاتی ہے*اور وہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر اُبھرتا ہے۔ اور اگر قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھیں، پِھر تو واہ...!! سُبْحٰنَ اللہ...!! ایسے خوش نصیب کی تو شان ہی نِرالی ہے۔

گنہگار کو توبہ کی توفیق مل گئی

حضرت ابو ہَاشم  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں بصرہ جانے کے لئے کشتی میں سُوار ہوا۔ اس کشتی میں ایک مَرد تھا اور اس کے ساتھ اس کی کنیز تھی۔ جب ہم کچھ آگے بڑھے تو اس مَرد نے کنیز سے کہا: شراب لے آؤ! وہ شراب لائی، مَرْد پینے لگا اور کنیز گانا گانے لگی۔پھر اس شخص نے میری طرف دیکھا اور کہا: کیا تمہارے پاس اس(گانے) جیسا کچھ ہے؟ میں نے کہا: ہاں! میرے پاس وہ ہے جو اس سے کہیں زیادہ بہتر اور بھلاہے۔ اس نے کہا:سناؤ! میں نے یہ آیات تلاوت کیں:

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) (پارہ:30، التکویر: 1-3)

ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔