Mola Ali Ki Shan Aur Quran

Book Name:Mola Ali Ki Shan Aur Quran

زیادہ مال کمانے کی دُھن میں مگن زندگی گزارتے چلے جا رہے ہیں، اگر ہم کچھ نہیں کر پاتے، وقت نہیں نکال پاتے تو ان کاموں کے لئے نہیں نکال پاتے جن کاموں سے اللہ پاک کی رضا نصیب ہوتی ہے۔ کاش! ہمارے حال پر کرم ہو جائے، کاش! فیضانِ مولیٰ علی  رَضِیَ اللہُ عنہ  نصیب ہو جائے اور ہم اللہ پاک کی رِضا کے طلب گار بن جائیں۔

اِیْمان کامِل کب ہوتا ہے...؟

پیارے اسلامی بھائیو! یہ بات ذِہن میں بٹھا لیجئے! ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی زندگی کا مقصد دُنیا کی رنگینیوں میں کھو جانا نہیں بلکہ مسلمان کی زندگی کا مقصد ساری زندگی اللہ پاک کی رضا کی طلب میں گزارنا  ہے۔  ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالی شان ہے: مَنْ اَحَبَّ لِلَّهِ، وَاَبْغَضَ لِلَّهِ وَاَعْطىٰ لِلَّهِ ‌وَمَنَعَ ‌لِلَّهِ ‌فَقَدِ ‌اسْتَكْمَلَ ‌الْاِيمَانَ یعنی جو اللہ پاک کی رضا کی خاطِر محبّت کرے، اللہ پاک کی رضا ہی کی خاطِر نفرت رکھے، اللہ پاک کی رضا ہی کی خاطِر دے، رِضائے مولیٰ ہی کی خاطِر رَوک رکھے،تواس کا ایمان کامِل ہو گیا۔ ([1])  

مطلب یہ کہ بندے نے دُنیا میں جو کچھ بھی کرنا ہے، اللہ پاک کی رِضا کی خاطِر کرے، کسی سے دوستی کرنی ہے تو اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا کی خاطِر کرے، اپنی اَوْلاد سے، ماں باپ سے محبّت کرنی ہے، صِرْف طبعی میلان کے سبب نہ کرے بلکہ اللہ پاک کی رضا کی نیّت سے کرے، نفرت رکھنی ہے تو اپنی نفسانی خواہشات کی بنیاد پر کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے، اپنی عزّتِ نفس اور اَنَا کی بنیاد پر کسی سے جھگڑے نہ کرے، اگر نفرت رکھنی بھی ہے تو صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا کی خاطِر اللہ پاک کے دشمنوں سے نفرت رکھے، کسی کو کچھ دینا ہے تو رِضائے اِلٰہی کی نیت سے دے، کسی سے کچھ روکنا ہے تو


 

 



[1]... ابو داود، کتاب السنہ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، صفحہ:737، حدیث:4681۔