Book Name:Mola Ali Ki Shan Aur Quran
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجئے! *رضائے الٰہی کے لئے بیان سُنوں گا *بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
روایت ہے: مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا رَضِیَ اللہُ عنہ کا دورِ خِلافت تھا، ایک مرتبہ عشاء کی نماز ہوئی۔ مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ عنہ سے فرمایا: مجھے تنہائی میں مِلنا۔
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ عنہ خُود بھی صحابئ رسول ہیں اور آپ کو سُلطان ُ الْمُفَسِّرِین کا خطاب دیا گیا ہے۔ آپ وہ شخصیت ہیں ،جنہیں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے دُعا دی تھی: اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَاے اللہ پاک! عبد اللہ کو قرآن کا عِلْم عطا فرما۔ ([1]) یہ دُعائے مصطفےٰ قبول ہوئی، آپ قرآنی عُلُوم میں اتنے ماہِر تھے کہ فرمایا کرتے: اگر میرے اُونٹ کی رسّی گم ہو جائے تو قرآنِ کریم کے ذریعے تلاش کر لوں گا۔ ([2])
یعنی آپ کو قرآنیات پر ایسی مہارت تھی۔ خیر! حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے ان سے فرمایا: مجھے تنہائی میں ملنا۔ حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ عنہ نماز سے فارغ ہوئے اور حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ کی خِدْمت میں حاضِر ہو گئے۔ مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے ان