Book Name:Mola Ali Ki Shan Aur Quran
سے فرمایا: عبد اللہ! اللہ پاک نے فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱) (پارہ:1، سورۂ فاتحہ:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہان والوں کاپالنے والا ہے۔
(یہ جو سُورۂ فاتحہ کی پہلی ہی آیت ہے) اس میں شروع کے حرفِ اَلِف کا کیا معنیٰ ہے؟
اب حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ عنہ خُود بھی قرآنِ کریم کے بہت ماہِر تھے مگر حضرت علی رَضِیَ اللہُ عنہ چونکہ زیادہ عِلْم والے ہیں، لہٰذا عرض کیا: حُضُور! آپ ہی ارشاد فرمائیے! فرماتے ہیں: مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے حرفِ اَلِفْ کی وضاحت کرنا شروع کی، اس کی تفسیر کرتے گئے، کرتے گئے، کئی گھنٹے صِرْف حرفِ اَلِف کی وضاحت میں گزر گئے، پِھر آپ نے فرمایا: اَلْحَمْدُ میں حرفِ اَلِفْ کے بعد جو حرفِ لَام ہے، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ حضرت عبد اللہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے پِھر عرض کیا: آپ ہی ارشاد فرمائیے! چنانچہ مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ حرفِ لَام کی وضاحت شروع کی تو اس میں بھی کئی گھنٹے گزر گئے، یُوں کرتے کرتے ابھی قرآنِ کریم کی پہلی آیت کے پہلے لفظ اَلْحَمْدُ کی وضاحت ہی پُوری ہوئی تھی کہ فجر کی اذان ہو گئی۔([1])
بیاں کس منہ سے ہو اس مَجْمَعُ الْبَحرَین کا رتبہ جو مرکزہے شریعت کا، طریقت کا ہے سر چشمہ
تعالَی اللہ تری شوکت تری صَولَت کا کیا کہنا کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرّہ
مسلمانو! رسولُ اللہ کی الفت اگر چاہو کرو اس کی غلامی جس کا ہر مومن ہوا بندہ([2])
وضاحت:مولا علی شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ عنہ وہ ہستی ہیں کہ آپ میں شریعت اور طریقت کے دو