Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat

Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat

شامی عالم سے مَحبّت کا  انوکھااظہار

پیارے اسلامی بھائیو! ایک مرتبہ   ملکِ شام سے  تشریف لائے ہوئے جَامِعَہ اَلْمَغْرَبِیَّۃ دمشق کے مدیر اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم بُزرگ پیر طریقت حضرت شیخ رجب   رَضِیَ اللہُ عنہ   امیرِ اہلسنّت   کی رہائش گاہ پر ملاقات کیلئے تشریف لائے ۔آپ کو جیسے ہی اس کی اطلاع ملی فوراً دوسری منزل سے  ننگے پاؤں  نیچے تشریف لائے اور دروازے پرجاکران کا استقبال کیا اور بڑے ہی مؤدبانہ انداز میں  اپنے ساتھ اُوپر لے گئے۔دیکھنے والے حیرت زدہ تھے کہ پندرہویں  صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت ، لاکھوں مرید ین و مُتَعَلِّقین جن کی راہ میں  عقیدت ومَحبّت میں  بچھ جاتے ہیں  ۔ انہوں  نے شام سے  آئے ہوئے علماء وشیوخ کو اونچی  جگہ بٹھایا اور خود عاجزی کرتے ہوئے  زمین پر بیٹھ گئے۔ بیٹھنے کا انداز بھی انتہائی مؤدبانہ..!! دوزانو،  نگاہیں نیچی کئے۔

جب یہ حضرات آپ  کے یہاں سے رخصت ہونے لگے تو انتہائی مَحبّت  کا اظہار فرماتے ہوئے ، آپ نے اُن سے مصافحہ کیا ، گلے ملے   ، اور انہیں تحفے پیش کئے اور ننگے پاؤں دروازے تک چھوڑنے کے لئے تشریف لائے۔([1])

تیری ہر ادا پہ پیارے مجھے کیوں  نہ پیار آئے      تو انہی کی راہ پہ لائے جنہیں  سب پہ پیار آئے

اللہ !اللہ! یقینا علماء کی قدر وہ لوگ ہی کرتے ہیں،  جن کو اللہ پاک  عقل سلیم عطا فرماتا ہے *وہ جانتے ہیں کہ عالِم اور اَنجان شخص برابر نہیں ہوتے *وہ جانتے ہیں کہ اللہ پاک  نے علما کو عام لوگوں کے مقابلے میں بلند درجے عطا فرمائے ہیں  ۔کتنے بلند؟؟ اتنے بلند کہ حضرت عبد اللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ عنہ  فرماتے ہیں:علمائے کرام ، عام مؤمنین سے


 

 



[1]...1163 علما ئے اہلسنت کے تاثرات، صفحہ:12-13 ملخصاً۔