Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجئے! *رضائے الٰہی کے لئے بیان سُنوں گا *بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہلسنّت کی علما سے مَحبّت
پیارے اسلامی بھائیو! پندرہویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت، بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ..!! آپ کو علمائے کرام سے بڑی ہی مَحبّت فرماتے ہیں، آپ کی علمائے کرام سے مَحبّت کا یہ عالم ہے کہ آپ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی قسم اِن کے بغیر ہم کسی کام کے نہیں، اِن کے قدموں میں پڑے رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! نجات کی صورت نکل ہی آئے گی۔([1]) مزید فرماتے ہیں:علما کو ہماری نہیں،ہمیں علما کی ضرورت ہے بلکہ اپنے مُتَعَلِّقین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : علماء کے قدموں سے ہٹے تو بھٹک جاؤ گے۔([2])
ہم کو اے عطؔار سنّی عالموں سے پیار ہے اِنْ شَاءَ اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے
اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ علمائے کرام سے اِس قدر مَحبّت فرماتے ہیں، اِن کی عزّت و تعظیم کرنے کا اس قدر حکم ارشاد فرماتے ہیں..؟؟آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:*یہ علما ہی ہیں جو انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کےحقیقی وارث اور جانشین ہیں؛پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم