Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat

Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat

بھٹک جاؤ گے*علمائے اہل سنّت ہمیں   سوئے جنت لے چلیں   گے*عالِم سے کہیں   کہ جب کبھی ہم سے کوئی غلطی ہوجائے تو کان سے پکڑ کر ہماری اِصلاح کردیں*اے علمائے کرام! ہمیں   اپنے قدموں   سے دُور مت کیجئے!  ہم آپ کے ہیں  *علما و مشائخ عوام سے ممتاز ہوتے ہیں  ،  یہ مُقْتدا ہیں  ،  ان کی بات کا اثر ہوتا ہے۔ ان سے تعلقات استوار ہو جائیں   تو یہ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں   میں   بہت  معاون ہوتے ہیں۔([1])

مجھ کو اے عطارؔ سُنّی عالِموں   سے پیار ہے      اِنْ  شَاء  اللہ  دوجہاں    میں    اپنا  بیڑا  پار ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

علما ئے اہلسنّت کی امیر اہلسنّت سے مَحبّت

پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سنا کہ امیر اہلسنّٗت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ علمائے ا ہلسنّت سے کیسی مَحبّت  فرماتے تھے، ایسا نہیں ہے کہ آپ کی یہ مَحبّت یک طرفہ ہے بلکہ جس طرح آپ ان سے مَحبّت فرماتے ہیں ، یہ حضرات بھی آپ سے مَحبّت  فرماتے ہیں*حضرت شارح بخاری مفتی شریف ُالحق اَمجدی صاحب  رَضِیَ اللہُ عنہ  فرماتے ہیں:میں مولانا محمد الیاس قادری  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  انتہائی خوش عقیدہ سُنّی،  مسلکِ اعلیٰ حضرت   رَضِیَ اللہُ عنہ      کے سختی سے پابند انسان ہیں *حضرت رئیس التحریر علامہ ارشد القادری  رَضِیَ اللہُ عنہ  جب ایک مرتبہ عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ کراچی تشریف لائے تو خلیفۂ امیر  اہلسنّت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مَدَنی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے پوچھا : بیٹا کیا کرتے ہو؟عرض کیا جامعۃ ُالمدینہ میں پڑھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بیٹا!پڑھ لو!ہر ایک کو آپ کے والد کی طرح علمِ لَدُنِّی نہیں مِلتا*خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضرت مطیع الرحمن   رضوی   دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مرتبہ اپنے عاجزی بھرے جملوں


 

 



[1]...امیر اہلسنت کی دینی خدمات، صفحہ:325-326 ملتقطاً۔