Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat

Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat

تشریف لائے تو وہ منظر بھی قابل دید تھا۔آپ نے اور موجود اسلامی بھائیوں  نے ان کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی ۔ شارح بخاری  رَضِیَ اللہُ عنہ   اور ان کے ساتھ آنے والے علمائے اہلسنّت کو اپنے ہاتھوں  سے  کھانا پیش کیا  اور جب رخصت کا وقت آیا تو تعظیم علماء میں  ننگے پاؤں گھر سے  باہرانہیں  گاڑی تک چھوڑنے خود پہنچے۔ ([1])

عطرِ سنّت بانٹتا ہے اے مرے عطار تو           اہلسنّت کے لئے ہے صاحِبِ شاہکار تُو

ساری دُنیا کے کناروں سے صدا آنے لگی     بن چکا ہے عاشقوں کا قافِلہ سالار تُو

اَہْلِ شَر غوغا کریں، اَہْلِ سُنَن کو غم نہیں                 فتنۂ باطِل کی رہ میں بن گیا دِیوار تُو

بدرؔ نے اس عہد میں دیکھا نہ تجھ سا دُوسرا       تُو دھنی ہے قول کا اور صاحِبِ کردار تُو

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

اسلاف کی علما سے مَحبّت

اے عاشقانِ اولیا!امیر اہلسنّت کی علمائے کرام سے اس قدر مَحبّت ہمارے پہلےکے بزرگوں کی عادت کے عین مطابق ہے ۔ اللہ والوں کا شروع ہی سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اہلِ علم سے بڑی مَحبّت فرمایا کرتے تھے *کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا امام اعظم ابو حنفیہ  رَضِیَ اللہُ عنہ  کو علم اور اہلِ علم سے بہت مَحبّت تھی ، آپ  رَضِیَ اللہُ عنہ  کے بارے میں منقول ہے کہ آپ  اپنی کمائی سے  محدثین کرام   رَضِیَ اللہُ عنہم   کی ضروریات پوری فرمایا کرتے، ان کے گھر کا خرچ خود برداشت فرماتے، بعض علما میں نقد رقم تقسیم فرمایا کرتےتاکہ کہ وہ خود اپنی حاجتوں کو پورا کر سکیں([2])     *حضرت عبد اللہ بن مبارک  رَضِیَ اللہُ عنہ   بھی اہل علم سے بہت


 

 



[1]...1163 علما ئے اہلسنت کے تاثرات، صفحہ:14-15 بتصرف۔

[2]... مناقب امام اعظم ، جز:1، صفحہ:262۔