Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ke Ulama Se Mohabbat
7سو درجے بلند ہوں گے اور ہر دو درجوں کے درمیان 5سو سال کی مسافت ہوگی([1])* وہ جانتے ہیں کہ یہی لوگ ہیں جو قرآن و حدیث کو بخوبی جاننے والے ہیں* وہ جانتے ہیں کہ یہی لوگ انبیائے علیہمُ السَّلام کے حقیقی وارث ہیں* وہ جانتے ہیں کہ عالِم کی افضلیت عابِد پر ایسی ہی ہے جیسے چودہویں کے چاند کی فضیلت ستاروں پر ۔
عالِم کی ذات عالَمِ انسانیت کی جاں عالِم کی ذات جوہرِ خِلْقَت کی ترجماں
عالِم کی ذات فَہْمُ و تَفَہُّم کا آسماں عالِم کی ذات حکمتِ مَعْبُود کا نشاں
حق سَاز و حق شناس کو عالِم کہا گیا اسلام کی اَسَاس کو عالِم کہا گیا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ علمائے کرام کی بارگاہ کا ادب و احترام کریں ، ان سے مَحبّت کریں، ان پر اعتراض کرنے سے خود کو بچائیں کیونکہ یہ حضرات اللہ پاک کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں ۔اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ(۷۹) (پارہ:3، سورۂ ال عمران:79)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اللہ والےہوجاؤکیونکہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور اس لئے کہ تم خود بھی اسے پڑھتے ہو۔
یعنی جو لوگ اللہ پاک کی کتاب قرآنِ کریم سِکھاتےاور اس کادرس دیتے ہیں وہ رَبَّانی علماہیں۔اللہ اکبر! سوچئے تو سہی جو اللہ پاک کے خاص بندے ہوں، جو دینِ کے وارث ہوں، ان سے مَحبّت رکھنے کی بجائے ان پرتنقید کرنا ، لوگوں کو ان سے دُورکرنےکی