Khof e Khuda Ke Fayde

Book Name:Khof e Khuda Ke Fayde

اس جگہ ظَنّ (یعنی گمان) بمعنیٰ یقین ہے۔([1])  یہ خَاشِعِیْن کی 2صفات ہیں: (1):خَاشِع وہ ہوتا ہے جو روزِ قیامت اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا یقین رکھتا ہے، اللہ پاک کے حُضُور پیشی کا خوف دِل میں رکھتا ہے (2):خَاشِع وہ ہوتا ہے جو مَوت کو، اس دُنیا سے پلٹ کر اپنے رَبّ کی طرف جانے کو ہر لمحہ اپنے پیشِ نظر رکھتا ہے۔

سب مشکلیں آسان ہو جائیں گی

مشہور مفسرِ قرآن، حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیتِ کریمہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: بنی اِسْرائیل کو اِیمان لانے کا حکم دیا گیا مگر یہ ان پر بہت بَھاری تھا (اُنہیں اپنے مَنْصَب، عُہدے چُھوٹتے نظر آتے تھے، آمدن بند ہوتی دِکھائی دیتی تھی، لہٰذا یہ منصب اور مال کے لالچ میں اِیمان قُبُول نہیں کرتے تھے)، انہیں اِس کا حَل دِیا گیا، حکم ہوا: صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصِل کر لو! ان 2عبادات کے ذریعے تمہارے اندر ایمان قُبُول کرنے کی ہمت آ جائے گی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ نماز خُود بہت دُشوار عِبادَت ہے، پابندی کے ساتھ، پُورے خُشُوْع و خُضُوْع کے ساتھ نماز پڑھنا آسان نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں یُوں کہہ لیجئے کہ ایک مُشکل کا جو حل دیا گیا، وہ خود مُشکل ہے، چنانچہ اس کی آسانی کی تدبیر بیان ہوئی، فرمایا گیا:*اپنے رَبّ سے مُلاقات اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے کا خیال دِل میں جَما لو!*جب دِل میں یہ خِیال پیدا ہو جائے گا تو دُنیوی فِکْروں سے نجات مِل جائے گی *دُنیوی فِکْروں سے نجات مِل گئی تو دِل کو قرار آجائے گا *دِل کو قرار آ گیا تو نماز آسان ہو جائے گی بلکہ نماز کی لذّت ملنے لگے گی *جب یہ لذّت ملنے لگے


 

 



[1]...تفسیر جلالین مع حاشیہ صاوی ، پارہ:1، سورۂ بقرۃ، زیر ِ آیت:46، جز :1، جلد:1، صفحہ:69۔