Wah Kya Baat Ghous e Azam Ki

Book Name:Wah Kya Baat Ghous e Azam Ki

حضرت شیخ عبْدُ الحق مُحَدِّث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:   

موتیوں کی لڑی

مشائخِ  اَوْلِیا  میں سے کوئی بھی کرامات کےلحاظ سے آپرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کا ہم  پَلّہ نہیں، یہاں تک کہ بعض مشائخ  نے فرمایا:حضورغوث  پاکرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکی کرامات کا حال تو موتیوں کی لڑی جیسا ہے کہ جب ٹُوٹتی ہے تو ایک کےبعدایک موتی  گِرتےچلےجاتےہیں،غوثِ  پاک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکی کرامات اَعْدادو شُمار سے باہر ہیں۔(اشعۃ اللمعات،کتاب الفتن،باب الکرامات، ۴/۶۱۰ مفھوماً)حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہکی ذاتِ بابرکت تو کرامات و کمالات کا مجموعہ ہے ہی،صرف آپ کے مُبارک نام کی یہ برکت ہے کہ جہاں پُکارا جائے،مُوْذِی جانوروں سے  چُھٹکارا مل جاتا ہے۔ذرا سوچئے! جب حضورغوث ِ پاکرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کےنام کی  یہ برکت و عظمت اور کرامت ہےکہ درندے آپ کا نام سُن کر  حملہ نہیں  کرتے، مُوذی جانور تکلیف نہیں  پہنچاتےتوآپرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی ذات  کیسی باکرامت  اور بلندمرتبہ ہوگی۔

                             آئیے!کرامت کی  تعریف سنتےہیں ،چنانچہ  

کرامت کی تعریف اور اس کا حکم

مکتبۃ ُالمدینہ کی کتاب ”کراماتِ صحابہ“صفحہ 36 پر ہے: مومنِ مُتّقی سے اگر کوئی ایسی نادرُالوجود اور تَعَجُّب خیز چیز صادِر وظاہر ہوجائے جو عام طور پر عادتاً نہیں ہواکرتی تو اس کو کرامت کہتےہیں۔ اسی قسم کی چیزیں اگر انبیا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے اعلانِ نبوّت کرنے سے پہلے ظاہر ہوں تو اِرْہاص اور اعلانِ نبوّت کےبعد ہوں تومعجزہ کہلاتی ہیں اوراگر عام مومنین سےاس قسم کی چیزوں کا ظُہُور ہوتو اُس کو معونت کہتے ہیں اورکسی غیرمسلم  سے کبھی اُس کی خواہش کے مُطابق اِس قِسَم کی چیز ظاہر ہوجائے تو اُس کو اِسْتِدراج کہاجاتاہے۔( نبراس ،اقسام الخوارق سبعۃ ، ص۲۷۲ ملخصاً)