Sab Se Baray Parhaiz Gar

Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar

کی ذِمَّہ داری فِیْ سَبِیْلِ اللہ نبھانا چاہتے تھے مگر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عنہ نے زور ڈالا کہ اگر خلیفہ ہی کمائی وغیرہ میں مَصْرُوف رہے گا تو مسلمانوں کے معاملات کون دیکھے گا، چنانچہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عنہ کی مُشَاوَرت سے صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کا وظیفہ مقرر کیا گیا۔ وظیفہ بھی کتنا تھا...؟ آج کل کی طرح لاکھوں کروڑوں میں نہیں تھا بلکہ بہت معمولی وظیفہ تھا۔([1]) آپ کے 2 سالہ دورِ خِلافت کے کل اخراجات 8 ہزار دِرْہَم تھے۔ جب آپ کا وقتِ وِصَال آیا تو فرمایا: میں نے یہ رقم لینے سے انکار کیا تھا مگر عمر رَضِیَ اللہُ عنہ نے ایسا نہ ہونے دیا، جب میں دُنیا سے چلا جاؤں تو میرے مال میں سے 8 ہزار دِرْہَم لے کر بیتُ المال میں واپس رکھ دئیے جائیں۔([2])

سُبْحٰنَ اللہ! کیا شانِ تقویٰ ہے۔ آپ کے لئے یہ وظیفہ لینا بالکل جائِز تھا، مجبوری بھی تھی، اگر وظیفہ نہ لیتے تو بچوں کو کہاں سے کھلاتے...؟ اگر کمانے کی فِکْر میں لگ جاتے تو خِلافت کی ذِمَّہ داریاں کون نبھاتا۔ اس سب کے باوُجُود حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ کا یہ کمال تقویٰ تھا کہ آپ نے اس اُجْرت کو اپنے پاس رکھنا گوارا نہ کیا، مال آ گیا تو اس میں سے واپس لوٹا دیا۔

امیر اہلسنت کا پیارا انداز

اَلْحَمْدُللہ! عاشِقِ صِدِّیقِ اکبر، مولانا اِلیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کا بھی ایسا ہی انداز ہے، آپ پہلے مسجد میں اِمامت کروایا کرتے تھے، امام مسجد کی تنخواہ مسجد کے چندے سے


 

 



[1]...طبقات ابن سعد، رقم:46، ابو بکر الصدیق رَضِیَ اللہُ عنہ ، جلد:3، صفٖحہ:137 خلاصۃً۔

[2]...سنن کبریٰ للبہیقی، کتاب قسم الغیء...الخ، باب ما یکون للوالی...الخ، جلد:6، صفحہ:671، حدیث:13009۔