Sab Se Baray Parhaiz Gar

Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar

بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک شرعِی مسئلہ عرض کرتا ہوں:

درست کیا ہے؟

(درست شرعی مسئلہ اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی)

مسئلہ: باپ سے وراثت کی تقسیم کا زبردستی مُطَالبہ کرنا ناجائز ہے۔

وضاحت:بعض دفعہ اَوْلاد اپنے والدین کے جیتے جی اُن سے وِراثَت کا زبردستی مطالبہ کر رہی ہوتی ہے، اَوَّل تو یہ بڑی بےباکی والی بات ہے، پِھر ایسا کرنا شرعًا بھی درست نہیں ہے۔ وِراثت جو ہے یہ آدمی کے مرنے کے بعد تقسیم کی جاتی ہے، اسی لئے اسے تَرْکہ کہتے ہیں یعنی وہ مال و جائیداد جو آدمی چھوڑ کر مر گیا۔ لہٰذا والدین کی زندگی میں ان سے وِرَاثت کا زبردستی مطالبہ کرنا ناجائِز و حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔([1])اللہ پاک ہمیں دُرست اسلامی اَحْکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

چوری سے حفاظت ہو گی(وظیفہ)

یَا جَلِیْلُ( اے بزرگی والے!)

جو کوئی 10بار یَا جَلِیْلُ پڑھ کر اپنے مال واَسباب اوررقم وغیرہ پر دَم کردے، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! چوری سے محفوظ رہے گا۔([2]) اللہ پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔ 



[1]...فتوی نمبر:fmd:0997۔

[2]...چڑیا اور اندھا سانپ، صفحہ:29۔