Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar
اَفسوس! آج کل ہمارے ہاں خیال نہیں کیا جاتا، لوگ بس کمانے کی فِکْر کرتے ہیں، کمائی کا ذریعہ حلال ہے یا حرام ہے، اس کی پرواہ کم ہی لوگ کرتے ہیں، عموماً آپ نے سُنا ہی ہو گا: مِیَاں! اب جُھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہے، جھوٹ بِنا تو کاروبار چلتا ہی نہیں ہے۔
لَا حَوْلَ وَ لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ! جُھوٹ بولنا گُنَاہ ہے، جُھوٹ بول کر جو رقم کمائی، اس میں بھی جُھوٹ کا اَثَر آ گیا، اب بتائیے! جو ایسی کمائی ہو، اس میں بَرَکت کہاں سے آئے گی *یونہی سُودِی لَیْن دَیْن عام ہو رہا ہے *رِشوت عام ہو رہی ہے *ناپ تول میں ڈَنڈی ماری جاتی ہے *جھوٹی قسمیں کھا کر مال بیچا جاتا ہے *جو مُلازمت کرتے ہیں، ان کے ہاں بھی ایسی صُورتیں پائی جاتی ہیں، کام میں سُستی دکھاتے ہیں، رات دیر تک جاگتے ہیں، صبح کام کے وقت نیند چڑھتی ہے، کبھی گپ شپ، کبھی فون پر باتیں، کبھی اِدھر اُدھر ٹائِم ضائع کرنا، کام پر دھیان نہیں دیتے، اگر یہ عُرْف سے ہَٹ کر کیا (مثلاً جتنی فُون پر بات کرنے کی اِجازت ہے، اُس سے زیادہ وقت لگایا) تو اتنے وقت کی جو اُجْرت ہے، وہ شرعِی صُورت پائی جانے پر حرام میں گئی۔ اسی طرح حرام کمائی کی اور سینکڑوں صُورتیں ہیں، ہمارے ہاں ایک یہ بھی تو مسئلہ ہے کہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں کہ دِین صِرْف نماز روزے کا نام ہے، جی نہیں...!! *دِین ہمارے گھر پر بھی حاکِم ہے *ہماری دُکان پر بھی حاکِم ہے *ہماری ذات پر بھی حاکِم ہے۔ دُکان کھولنی ہے، کاروبار کرنا ہے، اس کے شرعِی احکام کیا ہیں؟ حلال کی صُورتیں کیا ہیں؟ حرام کی صُورتیں کیا ہیں؟ سُود کیا ہوتا ہے؟ کن کن صُورتوں میں کمائی حرام ہو جاتی ہے؟ یہ سب کچھ کون سیکھتا ہے؟ سیکھتے ہی نہیں اور بڑے بڑے کاروبار چلا رہے ہوتے ہیں، پِھر اس میں حلال حرام کی پرواہ بھی نہیں ہے، حرام آ رہا ہے، حلال آ رہا ہے، بس جمع