Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar
کرے گا، صِرْف اسی کو کھانا ملے گا۔ اب کیا مَعَاذَ اللہ! نمرود کو فضیلت والا کہا جائے گا؟ نہیں، ہر گز نہیں...!! *سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مثال دی، لکھتے ہیں: فرض کیجئے! زید کو ہزار سال کی زندگی ملی اور اس نے ساری زندگی نیک کام کرتے ہوئے گزار دِی مگر اس کی یہ ہزار سال کی نیکیاں قُبُول نہیں ہوئیں، دوسری طرف عَمْرو ہے، اس کو ہزار سال کی زندگی تو نہیں ملی، البتہ اس نے تھوڑی سی زندگی ہی میں ایسی نیکیاں کر لیں جو اللہ پاک کی بارگاہ میں قُبُول ہو گئیں، اُسے اللہ پاک کا قُرب مِل گیا، اب بتائیے! ان دونوں میں اَفْضَل کون ہو گا؟ یقیناً وہی جس کی نیکیاں قُبُول ہوئیں، جسے اللہ پاک کا قرب مِلا۔
پتا چلا؛ اسلام میں اَفْضَل ہونے کا مطلب ہے: اللہ پاک کا قُرْب اور اُس کی رِضا زیادہ ملنا۔ جس کو اللہ پاک کا قُرْب اور اللہ پاک کی رِضا جتنی زیادہ نصیب ہو، وہ اُتنا ہی زیادہ فضیلت والا ہے اور جسے اللہ پاک کا قُرْب اور اُس کی رضا نہ ملے، اس میں چاہے ہزار خوبیاں ہوں مگر وہ فضیلت والا نہیں ہو سکتا۔ ([1]) اور اللہ پاک کا زیادہ قُرْب کسے ملتا ہے؟ زیادہ رِضا کسے نصیب ہوتی ہے، اللہ پاک نے خُود ہی بتا دیا، فرمایا:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پارہ:26، الحجرات:13)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزَّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
پتا چلا؛ جو زیادہ تقوے والا ہے، وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں زیادہ قُرْب والا ہے، جو زیادہ قرب والا ہے، وہی اَفْضَل ہے۔ اب قرآن ہی سے پُوچھ لیجئے کہ نبیوں کے بعد سب سے زیادہ تقوے والا کون ہے؟ ارشاد ہوا: