Sab Se Baray Parhaiz Gar

Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar

رسولوں کے تاجدار صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و سَلَّم کے پہلو مبارک میں آرام فرما ہیں۔

جو یارِ غارِ مَحْبُوبِ خُدا صِدِّیقِ اکبر ہیں

وُہی یارِ مَزارِ مصطفٰے صِدِّیقِ اکبر ہیں

سبھی اَصحاب سے بڑھ کر مُقَّرَّب ذات ہے ان کی

رفیقِ       سرورِ        اَرض        و      سما        صِدِّیقِ        اکبر       ہیں ([1])

وضاحت:حضرت ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ عنہ، غارِ ثور میں بھی نبیِ کریم، رؤف و رحیم صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و سَلَّم کے ساتھ تھےاوراب مزار شریف میں بھی آپ صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و سَلَّم کے ساتھ ہیں۔ سارے صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سےبڑھ کر شان والے صحابی اور آپ صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و سَلَّم کے ساتھ رہنے والے صحابی صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ ہیں۔

سُورۂ اَللَّیْل کا شانِ نزول

پیارے اسلامی بھائیو! اُمَیَّہ بن خلف جو مکّے کا ایک بڑا غیر مسلم تھا، واقعہ مشہور ہے کہ صحابئ رسول، مؤذِّنِ مصطفےٰ، حضرت بِلال رَضِیَ اللہُ عنہ اس کی غُلامی میں تھے اور یہ آپ پر انتہائی ظُلْم کیا کرتا تھا، انہیں تپتی ہوئی گرم ریت پر لِٹا دیتا، اُوپَر وَزنی پتھر رکھ دیتا، عرب کی گرمی، چلچلاتی دُھوپ...!! حضرت بِلال رَضِیَ اللہُ عنہ کا جسم مُبَارَک جُھلس کر رہ جاتا، اُمَیَّہ کہتا: اُکْفُرْ مُحَمَّدًا یعنی اے بِلال! مُحَمَّد (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم) کا اِنْکار کر دو (ان کے لائے ہوئے دِین سے پھر جاؤ!)۔

اس کے جواب میں حضرت بِلال رَضِیَ اللہُ عنہ اَحَدْ اَحَدْ (یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) کے نعرے لگاتے اور بدبخت اُمَیّہ کا سینہ جَلاتے۔ ایک دِن اُمَیّہ حضرت بِلال رَضِیَ اللہُ عنہ کے ساتھ یہی برتاؤ کر


 

 



[1]... وسائلِ بخشش، صفحہ:565-566 ملقتقطًا۔