Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar
اور جس نے مجھے تکلیف دی اُس نے اللہ پاک کو اِیذا دی۔ ([1])
خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں
پیارے اسلامی بھائیو! اسلام ایسا پیارا دِین ہے کہ *دوسروں کو مارنا *گالیاں دینا *کسی کا مال لوٹنا یا *عزّتِ نفس کی دھجیاں اُڑانا تو دُور کی بات، ہم کسی کو غُصّے سے گھور کر دیکھیں، ہمارا اسلام ہمیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :جو اپنے بھائی کی طرف ڈرانے والی نظروں سے گھورے اللہ پاک اسے قیامت کے دن ڈرائے گا۔([2])
حکیمُ الْاُمَّت، حضرت مفتی احمد یار خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں: بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے، یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے (اسے روزِ قیامت ڈرایا جائے گا)۔ (مزید لکھتے ہیں:)اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللہ پاک اسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے!کتنی پیاری بات ہے، ہم کسی کو گُھور کر دیکھیں اور اسے بُرا لگے، تکلیف ہو، ہمیں اس کی بھی اجازت (Permission)نہیں ہے۔ کاش!ہم دوسروں کے خیر خواہ، اپنے مسلمانوں بھائیوں سے محبّت رکھنے والے، نیک، ہمدرد اور رحمدِل مسلمان بننے میں کامیاب ہو جائیں۔