Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar
یعنی حضرت اَبُو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ کا حضرت بِلال رَضِیَ اللہُ عنہ کو آزاد کرنا، اللہ پاک کی رِضا کے لئے ہے، کسی کے اِحْسَان کا بدلہ نہیں ہے اور نہ اُن پر حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عنہ وغیرہ کا کوئی اِحْسَان ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے، وہ یہ کہ دِین میں فضیلت کا مِعْیار تقویٰ ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پارہ:26، الحجرات:13)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزَّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
پتا چلا؛ اَفْضَل وہ ہے جو زیادہ تقوے والا ہے، یہ سمجھنے اور یاد رکھنے کی بات ہے *عِلْمِ دِین بہت بڑی فضیلت ہے مگر اَفْضَل ہونے کا معیار نہیں ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتےکہ جس کے پاس عِلْم زیادہ ہے وہ اَفْضَل ہے، دیکھئے! شیطان صدیوں تک مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت (یعنی فرشتوں کا استاد) رہا ہے، اس کے پاس عِلْم کی کمی نہیں ہے مگر کیا یہ فضیلت والا ہے؟ نہیں...!! ہر گز نہیں ہے *اسی طرح بہادری بھی اَفْضَل ہونے کا معیار نہیں ہے، غیر مسلموں میں ہزاروں بہادر ہوئے ہیں، رُسْتم جس کی بہادری کے واقعات مشہور ہیں، یہ کون تھا؟ غیر مسلم تھا اور غیر مسلموں کو اللہ پاک نے جانوروں سے بھی بدتَر فرمایا ہے، یہ کیسے اَفْضَل ہو سکتے ہیں *سخاوت بھی اَفْضَل ہونے کا معیار نہیں ہے، نمرود بہت سخی تھا، قحط کے زمانے میں اپنی رعایا کو کھانا بانٹتا تھا اور کثرت سے بانٹتا تھا مگر شرط تھی کہ جو اسے سجدہ