Sab Se Baray Parhaiz Gar

Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar

بہت قریبی تھے، حضرت اَبُو جُحَیْفَۃ رَضِیَ اللہُ عنہ کا خیال یہ تھا کہ مَولا علی مشکل کُشا رَضِیَ اللہُ عنہ سب سے اَفْضَل ہیں، ایک روز حضرت اَبُو جُحَیْفَۃ رَضِیَ اللہُ عنہ نے کچھ لوگوں کو اس کے خِلاف باتیں کرتے سُنا (مثلاً وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ عنہ سب سے اَفْضَل نہیں ہیں)۔ لوگوں کی یہ بات سُن کر حضرت اَبُو جُحَیْفَۃ رَضِیَ اللہُ عنہ کو بہت دُکھ ہوا۔ مَولا علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے جب انہیں غمگین دیکھا تو ان کاہاتھ پکڑ کر گھر لے گئے اور غم کی وجہ پوچھی۔ حضرت اَبُو جُحَیْفَۃ رَضِیَ اللہُ عنہ نے لوگوں سے جو سُنا تھا بتا دیا، اُن کی بات سُن کر مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، مَولا علی مشکل کُشا رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتا نہ دُوں کہ اُمَّت میں سب سے اَفْضَل کون ہے؟ پھر خُود ہی فرمایا: اُمَّت میں سب سے اَفْضَل اَبُو بکر ہیں، ان کے بعد عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عنہما۔ ([1])

خدائے پاک کی رحْمَت سے انسانوں میں ہر اک سے

فُزوں     تر     بعد     از     کُل     اَنْبِیا     صدیقِ     اکبر     ہیں ([2])

صِدِّیقِ اکبر کا تقویٰ

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کو لقب دیا: اَتْقٰی یعنی آپ سب سے بڑے پرہیزگار ہیں۔ آپ کا تقویٰ کیسا تھا؟ پرہیزگاری کیسی تھی...؟ سنیے!

قَے کر کے دُودھ نکال دیا

بخاری شریف میں ہے: حضرت اَبُوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عنہ کا ایک غُلام تھا، یہ دورِ جاہلیت


 

 



[1]...اَلصَّواعِقُ المُحَرِّقَۃُ، الباب الثالث فی بیان افضلیت ابی بکر ...الخ،   صفحہ:76۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:566۔