Sab Se Baray Parhaiz Gar

Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar

تھے، آپ نے عرض کیا: ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ خلیفہ ہیں، خلیفہ کا حق ہے کہ رعایا کو اَدَب سکھائے، آپ کا اسے مارنا غلط نہیں تھا۔ لہٰذا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: اے عمر رَضِیَ اللہُ عنہ! آج بدلہ نہ دِیا تو کل قیامت کے دِن اللہ پاک کے ہاں میرا کون مدد گار ہو سکے گا...؟ تب کیا جواب دُوں گا؟([1])  

اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خُدا کا انداز دیکھئے! حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ خلیفہ تھے، آپ کا اسے مارنا ظلم نہیں تھا، خلیفہ ادب سکھا سکتے ہیں مگر یہ کمال تقویٰ ہے، آپ روزِ قیامت اللہ پاک کے حُضُور حاضِری سے ڈرتے تھے، لہٰذا اس شخص کو بدلہ لے لینے کا فرمایا۔

مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا حرام ہے

اب ہمارے ہاں تو انداز ہی کچھ اور ہیں *دوسروں کو تکلیف پہنچانا تو لوگ معمولی سمجھتے ہیں *دوسروں کی غیبت کرنا *پیٹھ پیچھے بُرائیاں کرنا *چغلی کھانا *جھوٹے الزام لگانا *مذاق مذاق میں عزّتِ نفس مَجْرُوح کرنا *سامنے والے کی بےعزّتی کر دینا *ڈانٹنا *کھری کھری سُنا ڈالنا وغیرہ بہت عام ہو چکا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اس سے مَحْفُوظ فرمائے۔ یہ بہت سخت گُنَاہ ہیں، ہر وہ کام جو مسلمان کو تکلیف پہنچائے، اس سے بچنا ضروری ہے کیونکہ مسلمان کی دل آزاری حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ طَبَرانِی شریف میں ہے، رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:مَنْ اٰذیٰ مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہَ (یعنی) جس نے کسی مسلمان کو تکلیف  دی، اُس نے مجھے تکلیف دی


 

 



[1]... سنن کبریٰ للبہیقی، کتاب الجراح، باب ما جاء فی قتل الامام و جرحہ، جلد:8، صفحہ:203، حدیث:16025 خلاصۃً۔