Book Name:Sab Se Baray Parhaiz Gar
رہا تھا کہ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عنہ کا یہاں سے گُزر ہوا، آپ رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: اے اُمَیَّہ! کیا تم بلال کے معاملے میں اللہ پاک سے نہیں ڈرتے؟ اُمَیَّہ بولا: اَبو بکر! آپ ہی نے اسے بگاڑا ہے، اگر اسے بچانا چاہتے ہیں تو بچا لیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: مجھے منظور ہے، چُنانچہ آپ نے حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عنہ کو بھاری قیمت سے خرید کر آزاد کر دیا۔([1]) اس واقعہ سے متعلق 30 وَیں سپارے کی ایک مختصر سُورت سورۂ وَاللَّیْل نازِل ہوئی، اس سُورت میں اللہ پاک نے جنّتی صحابی حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ(۱۷) الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ(۱۸) (پارہ:30، الَّیْل:17-18)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور عنقریب سب سے بڑے پرہیز گار کو اس آگ سے دُور رکھا جائے گا، جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ اسے پاکیزگی ملے۔
پانچویں صدی ہجری (یعنی آج سے تقریباً 9 سو 36 سال پہلے) کے بہت بڑے مُحَدِّث، عَلّامہ حُسَیْن بن مَسْعُود یعنی امام بَغْوِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: تمام مُفَسِّرِین کا اِتِّفَاق ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں اَتْقَی (یعنی سب سے بڑے پرہیز گار) سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ ہیں۔ ([2]) معنی یہ ہے: *سب سے بڑے پرہیز گار (یعنی حضرت اَبُو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ) کوجہنّم کی بھڑکتی آگ سے دُور رکھا جائے گا اور * سب سے بڑا پرہیز گار وہ ہے جو اللہ پاک کی راہ میں اپنا مال ریاکاری اور نمائش کے طَور پرخرچ نہیں کرتا بلکہ اس لئے خرچ کرتا ہے تاکہ اسے اللہ پاک کی بارگاہ سے پاکیزگی ملے۔ ([3])