Deeni Mutala Ki Ahmiyat

Book Name:Deeni Mutala Ki Ahmiyat

ہے *کپڑا کپڑے کی دُکان سے ملتا ہے اور *عِلْم یا عُلَمائے کرام سے ملتا ہے یا عاشقانِ رسول عُلَمائے کرام کی لکھی ہوئی کتابوں سے ملتا ہے۔ لہٰذا عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے کتابیں پڑھنی ہوتی ہیں، عُلَمائے کرام کی خِدْمت میں حاضِر ہونا ہوتا ہے اور عِلْمِ دِین تو ویسے بھی نُور ہے۔ یہ اتنی آسانی سے نصیب نہیں ہوتا، جو اس راہ میں مشقت اُٹھاتا ہے، اُسے یہ نُو رعطا کیا جاتا ہے۔

عِلْمِ دِین کس سے سیکھیں

مُسْلِم شریف میں ہے: یہ عِلْم تمہارا دِین ہے، پس غَور کرو کہ تم اپنا دِین کس سے سِیکھ رہے ہو...! ([1])

کیا آپ جانتے ہیں: ہمارے اَسْلاف (یعنی بزرگانِ دِین) نے اَحادِیثِ کریمہ کس طرح جمع کی ہیں؟ کتنی محنت کے ساتھ عِلْمِ دِین سیکھا کرتے تھے؟ اِمام سُیُوطِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ لکھتے ہیں:حضرت ابُو عبّاس مُسْتَغْفری رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو خبر ملی کہ مِصْر میں حضرت اَبُو حامِد مِصْرِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ حدیثِ خالِد بن وَلِیْد روایت کرتے ہیں تو آپ نے گھر بار چھوڑا، حدیثِ خالِد بن وَلِید سُننے کے لئے مِصْر پہنچے، حضرت اَبُو حامِد مِصْرِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خِدمت میں گئے، حدیث سُنانے کا عرض کیا تو آپ نے فرمایا: پہلے ایک سال کے روزے رکھو، پِھر سُناؤں گا۔ حضرت اَبُو عبّاس رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کو حدیث سُننے کا اتنا شَوْق تھا کہ آپ نے ایک سال کے روزے رکھے، پِھر حاضِر ہوئے اور حدیثِ خالِد بن وَلِیْد سُننے کی سعادت حاصِل کی۔([2])

یُوں حدیثیں سیکھی جاتی ہیں ۔ ہمارے لئے بہت آسان ذریعہ ہو گیا، مَعَاذَ اللہ! ہم سوشل


 

 



[1]...مسلم ، المقدمۃ، باب بیان ان الاسناد من الدین...الخ، صفحہ:14۔

[2]...جمع الجوامع، مسند خالد بن الولید رَضِیَ اللہُ عنہ، جلد:14، حدیث:10953۔