Book Name:Deeni Mutala Ki Ahmiyat
میڈیا (Social media)کے ہوکر رِہ گئے، اللہ پاک پناہ عطا فرمائے، اب *عُلَمائے کرام کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے *مدرسوں کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے *بس سوشل میڈیا کے ذریعے ہم خُود ہی مُحَقِّقْ (Researcher)بن جائیں گے۔ اللہ پاک کی پناہ!
ہاں! سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف شارٹ کورسز کر کے، عاشقانِ رسول عُلَمائے کرام کے بیانات وغیرہ سُن کر بھی عِلْمِ دِین سیکھا جا سکتا ہے مگر سوشل میڈیا پر سدھرنے کی بجائے بہکنے کے امکانات زیادہ ہیں، ہر ایک اپنی دُکان کھولے بیٹھا ہے، اچھے بُرے کی پہچان کہاں سے ہو گی؟ کیسے ہو گی؟ لہٰذا ہمیں دِینی کتابیں پڑھنے کی عادَت بنانی چاہئے۔
دعوتِ اسلامی اور جدیدٹیکنالوجی کا مثبت استعمال
پیارے اسلامی بھائیو! الحمد للہ! اُمّت کو سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچانے اور اس ٹیکنالوجی کو نیکیوں کا ذریعہ بنانے کے لئے عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی اپنی خِدْمات انجام دے رہی ہے*دعوتِ اسلامی کے 80 سے زائد شعبہ جات میں سے ایک سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ بھی ہے۔ جس کے تحتمختلف پلیٹ فارمز (Different platforms) مثلاً*یوٹیوب *فیس بک *انسٹاگرام وغیرہا کے ذریعے عاشقانِ رسول کو*اللہ پاک اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے احکامات کا پابند بنانے کی کوشش کرنے *صحابۂ کرام اور اہل بیت اطہار رَضِیَ اللہُ عنہم کی محبّت کے جام پلانے*اللہ پاک کے اولیا کا باادب بنانے*سچے اسلامی عقائدسکھانے *درست دینی معلومات فراہم کرنے کیلئے علمی و تحقیقی باتیں اپلوڈ کی جاتی ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے 100 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تقریباً 50ملین (Million) یعنی5کروڑفالورز(Followers)ہیں جبکہ ویورز(Viewers) کی تعداد