Khwaja Huzoor Ka Faizan

Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan

آیتِ کریمہ کی مختصر وضاحت

پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے ابتدا میں پارہ:16، سورۂ مریَم کی آیت:96 سُننے کی سَعَادت حاصِل کی، اللہ پاک فرماتا ہے: 

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (پارہ:16، مریم:96)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔

 یہ 2باتیں ہیں: (1):ایمان (2):نیک اَعْمَال۔ یہ دونوں اَہَم بنیادَیں ہیں، قرآنِ کریم میں جہاں جہاں فضیلت کا ذِکْر ہے، وہ انہی 2چیزوں کے ساتھ خاص ہے، جنّت کی خوشخبری سُنائی، اُسے سُنائی جو اِیمان والا بھی ہو، نیک اَعْمَال بھی کرتا ہو *جہنّم سے چُھٹکارے  کی خوشخبری سُنائی، اُسے سُنائی جو اِیمان والا بھی ہو، نیک اَعْمال بھی کرتا ہو *اللہ پاک کا پیارا کون ہے؟ جو اِیمان لائے اور نیک کام کرے *دُنیا  اور آخرت میں کامیاب کون ہے؟ جو اِیمان لائے اور نیک کام کرے*فرمایا:

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) (پارہ:30،العصر:2)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔

یعنی سارے کے سارے اِنْسان خَسَارے اور نُقْصان میں ہیں، فائدے میں کون ہے؟

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (پارہ:30،العصر:3)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے۔

وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرے۔ غرض؛ یہ دونوں باتیں بنیاد ہیں، فلسفۂ قرآن میں اچھا وہ کہلائے گا جو *ایمان والا بھی ہو *نیک اعمال بھی کرتا ہو، پِھر جو بندہ