Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan
خواجۂ اجمیر رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہسے خزانۂ قسمت کی چابی مل گئی ہے۔
اس کے عِلاوہ*شہزادہ دَارَا شُکُوْہ*سلطان غِیَاثُ الدِّین *شہزادہ شُجاع *شہزادہ فَرُّخ اور دیگر کئی شاہانِ وقت*ہند کے سُلطان وحکمران اپنے اپنے دورِ حکومت میں خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے دربارِ عالی شان میں حاضِری دے کر زبانِ حال سے یہ اقرار کرتے رہے کہ ہند کے تخت پر چاہے کوئی بھی بیٹھے لیکن حقیقت میں ہند کے سُلطان خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ہی ہیں۔ ([1])
وہ ہند کے راجہ ہیں، میں اُن کا بھکاری ہوں
خالی میں چلا جاؤں، کب اُن کو گوارا ہے
یہ تو بادشاہوں کی بات ہے، بڑے بڑے اَوْلیا بھی درِ خواجہ پر حاضِریاں دیتے ہیں، حضرت بُو علی شاہ قلندر، حضرت مُجَدِّدْ اَلْف ثانی، شیخ اَبُو حسن نُوری، اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، صدر الشریعہ اور بہت سارے اَوْلیائے کرام نے یہاں حاضِریاں دی ہیں۔ کتنے اَوْلیاء اللہ تو وہ ہیں، جنہوں نے خواجہ حُضُور رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کے درِ پاک پر چلے بھی کاٹے ہیں۔
امیرِ اہلسنت کی خواجہ غریب نواز سے محبت
امیرِ اہل ِسنت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ بھی الحمد للہ! عاشِقِ اَوْلیا ہیں۔ خصوصاً غوثِ پاک، شیخ عبدُ القادِر جیلانی، خواجہ غریب نواز اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی محبّت تو گویا آپ کی رَگ رَگ میں بَسی ہوئی ہے۔ آپ خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی یاد میں رَجَب شریف کی پہلی تاریخ سے