Khwaja Huzoor Ka Faizan

Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan

پاک مسلمانوں کے دِلوں میں اُن کی محبّت  رکھ دیتا ہے،  فرشتے بھی اُس سے محبّت کرتے ہیں اور نیک لوگوں کے دِلوں میں اُس کی عزّت رکھ دی جاتی ہے۔ ([1])

خواجہ حُضُور کا مقام کیا ہے...؟

کیا بزرگ ہوئے ہیں: شیخ سلیم چشتی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ۔ بابا فرید گنج شکر رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی اَوْلاد میں سے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ اور اُس وقت کا مغل بادشاہ شہنشاہ اَکْبَر دربارِ خواجہ پر حاضِر تھے، شہنشاہ اَکْبَر نے کہا: شیخ سلیم! یہ فرمائیے کہ خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی شان کیا ہے؟  شیخ سلیم رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے بہت خُوبصُورت جواب دیا، فرمایا: خواجہ حُضُور کی شان یہ ہے کہ وقت کا بادشاہ اَکْبَر اور سلیم جیسا فقیر دونوں ہی کتنی دَیْر سے دربار پر حاضِر ہیں، ابھی تک باریابی کی اِجازت نہیں دِی گئی۔([2])

سُبْحٰنَ اللہ! یہ شان ہے اُن ہستیوں کی جنہوں نے اِیمان قبول کیا، اس میں درجۂ کمال تک پہنچے اور ساری زندگی نیک  اَعْمَال میں مَصْرُوف رہے۔

محبتِ اَوْلیا عطیۂ اِلٰہی ہے

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے فرمایا:

سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶) (پارہ:16، مریم:96)

 تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبّت پیدا کر دے گا۔

اِس سے پتا چلا ؛ اَوْلیائے کرام کی مَحبّت عطیۂ اِلٰہی ہے۔ آپ غور فرمائیے! اِس دُنیا کے


 

 



[1]...نوادرالاصول،الاصل التاسع والخمسون والمائۃ فی المقۃ...الخ،جلد:1،صفحہ:426 ۔

[2]...سیرتِ خواجہ غریب نواز، صفحہ:362۔